کراچی: ڈارک ویب کے جال میں پھنسی 13 سالہ لڑکی بحفاظت بازیاب

Calender Icon جمعرات 22 اکتوبر 2026

کراچی: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے ایک بین الاقوامی انٹیلی جنس ایجنسی کی خفیہ اطلاع پر بروقت کارروائی کرتے ہوئے ڈارک ویب کے خطرناک آن لائن نیٹ ورک میں پھنسی 13 سالہ لڑکی کو بحفاظت بازیاب کروا لیا ہے۔ حکام کے مطابق ڈارک ویب سے منسلک اس گروہ کی جانب سے بچی کو خوفناک اور خود کش نوعیت کے ٹاسک دیے جا رہے تھے، تاہم ٹیم نے موقع پر پہنچ کر بڑی سانحے کو ٹال دیا۔

کراچی میں آن لائن گیمنگ اور سوشل میڈیا کے ذریعے بچوں کو بلیک میل اور ہراسانی کا نشانہ بنانے والے بین الاقوامی ڈارک ویب نیٹ ورک کے خلاف ایک بڑی کامیابی سامنے آئی ہے۔ این سی سی آئی اے کی ٹیم نے بروقت ایکشن لیتے ہوئے 13 سالہ بچی کو اس سائلنٹ اور خطرناک جال سے نکال لیا۔

خوفناک ٹاسک اور بروقت کارروائی:
ایجنسی کے مطابق، ڈارک ویب سے جڑے اس گینگ نے بچی کو کنٹرول میں لے کر انتہائی متنازعہ اور نقصان دہ ٹاسک دینا شروع کر دیے تھے۔

پہلا ٹاسک: بچی کو مجبور کیا گیا کہ وہ ایک بلی کو زہر دے۔دوسرا ٹاسک اسے خود کو شدید جسمانی نقصان پہنچانے (Self-harm) کا حکم دیا گیا۔

اس سے پہلے کہ بچی اپنے دوسرے ٹاسک کو مکمل کرتی اور کسی بڑے حادثے کا شکار ہوتی، ایجنسی کی ٹیم نے ٹریسنگ کے بعد بچی تک پہنچ کر اسے محفوظ کر لیا۔ حیران کن طور پر بچی کے والدین اس تمام تر آن لائن سرگرمی اور ڈارک ویب کے اثرات سے مکمل طور پر بے خبر تھے۔

تحقیقات کا دائرہ وسیع:
سائبر کرائم ایجنسی کا کہنا ہے کہ بچی سے رابطہ قائم کرنے والے تمام سوشل میڈیا اور آن لائن اکاؤنٹس کی گہرائی سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ اس بات کا بھی شدید خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس بین الاقوامی گروہ کے نشانہ پر مزید پاکستانی بچے بھی ہو سکتے ہیں۔ حکام نے والدین کو سخت ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں، موبائل فونز اور گیمنگ ایپس پر کڑی نظر رکھیں تاکہ انہیں ایسے خطرناک گروہوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔