لاہور: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے متنبہ کیا ہے کہ جاری عالمی تنازعات اور بین الاقوامی سطح پر پیدا ہونے والی معاشی بے یقینی کے منفی اثرات پاکستان میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ شدید چیلنجز کے باوجود ملک میں معاشی بہتری کا سفر مسلسل جاری ہے اور حکومت تمام تر درپیش مشکلات کے باوجود معاشی استحکام کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔
لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے بین الاقوامی اقتصادی صورتحال اور ملکی معاشی سمت کے حوالے سے تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پوری عالمی معیشت دباؤ اور بے یقینی کی کیفیت سے گزر رہی ہے، جس کے اثرات مقامی مارکیٹ میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑنے کے خدشات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ مشکلات کے باوجود غیر ملکی اور مقامی سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس وقت عالمی سرمایہ کار دنیا کی دیگر ابھرتی ہوئی منڈیوں کے ساتھ ساتھ پاکستان پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، جس کی واضح مثال یہ ہے کہ یورپ اور امریکا کے بڑے سرمایہ کار بھی پاکستان کے بین الاقوامی بانڈز میں بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کی مسلسل 4 سے 5 سالہ محنت اور بنیادی اصلاحات کے نتیجے میں ملک کی کریڈٹ ریٹنگ دوبارہ ‘بی’ (B) کی سطح پر بحال کر دی گئی ہے، جو معاشی بحالی کا بڑا ثبوت ہے۔
محمد اورنگزیب نے زور دیا کہ ملک کو خودمختار معاشی بنیادوں پر کھڑا کرنے کے لیے ٹیکس نظام کی اصلاحات اور اس کا دائرہ کار بڑھانا ناگزیر ہے۔ حکومت اس ہدف پر تیزی سے کام کر رہی ہے تاکہ ہر شعبہ اپنی صلاحیت کے مطابق قومی خزانے میں حصہ ڈالے۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشی نمو اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے تاکہ نجی سرمایہ کاری معیشت کا بنیادی ڈرائیور بن سکے۔
انرجی سیکٹر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے پیشگی حکمت عملی کے تحت یہ یقینی بنایا کہ پاکستانی عوام کو دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پیٹرول کے حصول کے لیے طویل قطاروں میں کھڑا نہ ہونا پڑے۔ خام تیل اور دیگر توانائی کے ذرائع کی باقاعدہ اور تسلی بخش فراہمی کی وجہ سے ملک میں کوئی بڑا بحران پیدا نہیں ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ آنے والے موسم سرما کے لیے بھی گیس اور مائع قدرتی گیس (LNG) کی ضروریات پوری کرنے کا منصوبہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ سبسڈی کے نظام میں شفافیت لاتے ہوئے “ہدف پر مبنی” (Targeted) سبسڈی فراہم کی گئی ہے، کیونکہ بڑی گاڑیوں اور زیادہ وسائل رکھنے والے طبقے کو حکومتی سبسڈی کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔
وزیر خزانہ نے سمندر پار پاکستانیوں کے کردار کو سراہتے ہوئے انکشاف کیا کہ عالمی جنگ اور تنازعات کی وجہ سے خدشہ تھا کہ تارکینِ وطن کی بھیجی گئی رقم یعنی ترسیلاتِ زر میں کمی واقع ہوگی، مگر خوش آئند بات یہ ہے کہ ترسیلات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ رواں مالی سال کے اختتام تک پاکستان کی کل ترسیلاتِ زر44 ارب ڈالر کی تاریخی سطح کو چھو لیں گی، جو ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو استحکام بخشنے میں اہم ترین کردار ادا کریں گی۔













ہفتہ 24 اکتوبر 2026 

