واشنگٹن: Health.com پر شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق امریکہ کے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) نے عوامی صحت و سلامتی کے تحفظ کے پیشِ نظر ملک گیر سطح پر 40 لاکھ سے زائد ٹوتھ پیسٹ ٹیوبز کو مارکیٹ سے فوری طور پر واپس منگوانے (Nationwide Recall) کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ طبی ریگولیٹری ادارے نے یہ سخت قدم مینوفیکچرنگ کے عمل کے دوران متوقع آلودگی اور مائیکرو بائیولوجیکل خطرات سامنے آنے کے بعد اٹھایا ہے، جس کے تحت صارفین کو متاثرہ بیچز کا استعمال فوری طور پر ترک کرنے اور اسٹورز سے ان کی فروخت روکنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔
ایف ڈی اے کے احکامات اور ریکال کی وجوہات:
امریکی ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ روٹین کوالٹی کنٹرول ٹیسٹنگ اور معائنے کے دوران چند متعلقہ پراڈکٹس کے نمونوں میں بیکٹیریل آلودگی کے آثار پائے گئے تھے۔ اس نوعیت کا بیکٹیریا کمزور قوتِ مدافعت (Immune System) رکھنے والے افراد، بچوں اور بزرگوں کے لیے شدید صحت کے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
ایف ڈی اے کے مطابق اگرچہ ابھی تک اس ٹوتھ پیسٹ کے استعمال سے کسی بڑے پیمانے پر جسمانی نقصان یا بیماری کا شکار ہونے کا باضابطہ کیس سامنے نہیں آیا، لیکن کسی بھی ممکنہ انفیکشن، منہ کے چھالوں، اور دیگر زہریلے اثرات سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر کے طور پر 4 ملین سے زائد ٹیوبز کو مارکیٹ اور صارفین کی پہنچ سے دور کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
متاثرہ پروڈکٹس اور بیچ نمبرز کی تفصیلات:
کمپنی اور ہیلتھ حکام کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق یہ ڈسٹری بیوشن ملک بھر کی معروف فارمیسیز، سپر مارکیٹس اور آن لائن رٹیل پلیٹ فارمز کے ذریعے کی گئی تھی۔ جن پروڈکٹس کو واپس منگوایا جا رہا ہے ان کی شناخت کے لیے مخصوص لاٹ نمبرز (Lot Numbers) اور ایکسپائری ڈیٹس جاری کی گئی ہیں۔
کمپنی نے اپنے تمام مینوفیکچرنگ اور ڈسٹری بیوشن پارٹنرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ شیلفس پر موجود تمام متاثرہ اسٹاک کو فوراً علیحدہ کریں اور انہیں تلف کرنے کے لیے مقررہ طریقہ کار اپنائیں۔ مزید برآں، وہ تمام صارفین جنہوں نے ان مخصوص تاریخوں اور بیچز کے دوران یہ ٹوتھ پیسٹ خریدی ہے، انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اسے استعمال نہ کریں اور متعلقہ اسٹورز پر واپس کر کے اپنی رقم کی واپسی (Refund) کا کلیم کر سکتے ہیں۔
طبی ماہرین کے تحفظات اور ہیلتھ ایڈوائزری:
طبی ماہرین اور ڈینٹل سرجنز نے اس خبر کے عام ہوتے ہی شہریوں کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اورل ہائیجین (منہ کی صفائی) کی مصنوعات میں اگر کسی بھی قسم کا بیکٹیریا یا فنگس شامل ہو جائے تو وہ مائیکرو مائیکروبس کے ذریعے مسوڑھوں کے زخموں، دانتوں کی جڑوں اور معدے کے نظام میں داخل ہو کر شدید انفیکشن کا باعث بن سکتا ہے۔
ماہرین کا مزید کہنا تھا کہ ایسے افراد جو پچھلے چند دنوں سے اس ٹوتھ پیسٹ کا استعمال کر رہے ہیں اور ان کو منہ میں تپش، مسوڑھوں کی سوجن، یا عجیب ذائقہ محسوس ہو رہا ہو، وہ فوری طور پر کسی مستند دندان ساز (Dentist) سے رجوع کریں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ ہمیشہ کسی بھی پراڈکٹ کے استعمال سے قبل اس کی سیل اور ریگولیٹری باڈی کا تصدیق شدہ مارک لازمی چیک کریں۔
مینوفیکچرنگ کمپنی کا ردعمل اور آئندہ کا لائحہ عمل:
متاثرہ ٹوتھ پیسٹ تیار کرنے والے ادارے نے ایف ڈی اے کے اس اقدام کی مکمل حمایت کرتے ہوئے ایک جاری کردہ بیان میں اپنے تمام صارفین سے معذرت کی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ پروڈکٹ کی معیار اور سلامتی ان کی اولین ترجیح ہے، اور وہ اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے اپنی مینوفیکچرنگ لائن اور سپلائی چین کا مکمل داخلی آڈٹ کر رہے ہیں۔
کمپنی کے نمائندے نے مزید کہا کہ مسئلے کی نشاندہی کے بعد پروڈکشن یونٹ میں عارضی طور پر کام روک دیا گیا ہے تاکہ تمام آلات کی اسٹریلائزیشن (پاکیزگی) اور کوالٹی چیکس کو دوبارہ یقینی بنایا جا سکے۔ کمپنی نے اپنے گاہکوں کے لیے ایک ہاٹ لائن اور آن لائن پورٹل بھی قائم کر دیا ہے جہاں متاثرہ خریداران اپنی خریداری کی تصدیق کر کے اپنا کلیم جمع کرا سکتے ہیں۔













اتوار 25 اکتوبر 2026 

