اسلام آباد:وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کی زیر صدارت پاکستان-ملائیشیا گوشت ایکسپورٹ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزیر غذائی تحفظ رانا تنویر حسین اور مشیر وزیراعظم ہارون اختر خان نے شرکت کی۔ اجلاس میں پاکستان کی گوشت برآمدات بڑھانے اور ایک جامع پالیسی فریم ورک کی تیاری کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
جام کمال خان نے کہا کہ حکومت گوشت برآمدی بنیاد کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے اور ملائیشیا پاکستان کے گوشت کے لیے ایک بڑی منڈی ہے۔ مشیر وزیراعظم ہارون اختر نے بتایا کہ ملائیشیا کو پاکستان کی گوشت برآمدات کی سالانہ صلاحیت 200 ملین ڈالر تک ہے، تاہم ایف ایم ڈی (فٹ اینڈ ماؤتھ ڈیزیز) اور ہڈی والے گوشت کی پابندی برآمدی صلاحیت میں بڑی رکاوٹ ہیں**۔
رانا تنویر حسین نے وزارت فوڈ سکیورٹی کو ہدایت کی کہ بیماریوں پر قابو پانے اور مویشیوں کے معیار کو بہتر بنانے میں بھرپور تعاون کیا جائے۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ پنجاب میں ایف ایم ڈی کنٹرول اور فیڈ لاٹ فیٹننگ پر خاطر خواہ پیش رفت ہوئی ہے، جبکہ دیگر صوبوں میں بھی یہ اقدامات تیز کیے جائیں گے۔
کمیٹی نے ایف ایم ڈی کنٹرول، بریڈ امپرومنٹ، فیڈ لاٹ فیٹننگ اور حکومتی مراعات کے لیے ایک ذیلی ڈھانچہ وضع کیا۔ حلال سرٹیفکیشن اور عالمی معیار یقینی بنانے کے لیے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کو بھی شامل کرنے پر اتفاق ہوا۔ کراچی بندرگاہ کی اسٹریٹجک اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے سندھ حکومت کو عملدرآمد میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
وفاقی وزیر جام کمال خان نے متعلقہ وزارتوں کو مقررہ مدت میں اپنی سفارشات جمع کرانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تحقیق، نجی شعبے کے اشتراک اور معیاری برآمدات کے ذریعے پاکستان کو عالمی منڈیوں میں ایک قابل اعتماد حلال گوشت فراہم کنندہ بنانا چاہتی ہے۔
یہ اجلاس پاکستان کی معاشی ترقی اور برآمدی صلاحیت بڑھانے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس سے ملائیشیا سمیت دیگر ممالک کے ساتھ تجارت میں اضافہ متوقع ہے۔












منگل 28 اکتوبر 2025 