کفایت شعاری، پاکستان ریلوے میں 31 دسمبر تک ایمرجنسی نافذ

Calender Icon اتوار 25 اکتوبر 2026

پاکستان ریلوے نے کفایت شعاری اقدامات کے تحت اپنے تمام افسران کے فضائی سفر پر پابندی عائد کر دی، جبکہ سرکاری دوروں کے لیے ریل کے ذریعے سفر کرنا لازمی قرار دے دیا گیا۔

پاکستان ریلوے کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق افسران کو فضائی سفر کی مد میں کوئی رقم ادا نہیں کی جائے گی، جبکہ سرکاری گاڑیوں میں سفر پر بھی پابندی عائد ہو گی۔ یہ ہدایات تمام چیف ایگزیکٹو افسران اور سینئر جنرل منیجرز کی منظوری سے جاری کی گئی ہیں۔

ٹرین آپریشن یقینی بنانے کے لیے وزیر ریلوے حنیف عباسی کی ہدایات پر محکمہ ریلوے میں 31 دسمبر تک ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔

لاہور میں پاکستان ریلوے ہیڈ کوارٹرز کی جانب سے ہفتے کو جاری بیان کے مطابق فیلڈ افسران کی تمام چھٹیاں تین ماہ کے لیے منسوخ کردی گئی ہیں، جبکہ انہیں ٹرین آپریشنز کی نگرانی کے لیے اتوار کو بھی فیلڈ میں دورے کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سول اور مکینیکل چیف انجینئرز اپنے متعلقہ علاقوں میں ریلوے آپریشنز اور حفاظتی انتظامات سے متعلق روزانہ رپورٹس وزارت کو جمع کرائیں گے۔ ہیڈ آف سیفٹی سے بھی روزانہ کی بنیاد پر رپورٹس طلب کی گئی ہیں۔

وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا کہ حکومت وزیراعظم کے وژن کے مطابق مسافروں کو ممکنہ حد تک محتاط سفر فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

وزیر ریلوے حنیف عباسی نے خراب یا بریکوں کے بغیر چلنے والی تمام مسافر بوگیوں اور مال بردار ویگنوں کو 31 دسمبر تک سروس سے نکال کر مکمل طور پر قابل استعمال بنانے کا حکم دے دیا۔

واضح رہے کہ پاکستان ریلوے میں حالیہ مہینوں کے دوران متعدد حادثات اور ٹرینوں کے پٹری سے اترنے کے واقعات پیش آچکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق صرف جولائی میں ایسے 7 واقعات رپورٹ ہوئے۔

حادثات کی اہم وجوہات میں ریلوے پٹریوں کی خستہ حالی، خراب بوگیوں اور ویگنوں کا استعمال، کانٹوں کا دستی نظام، انسانی غلطیاں، مرمت میں کوتاہیاں اور وسائل کی کمی شامل ہیں۔

مزید پڑھیں:تہران سے معاہد ممکن تاہم ایران پر حملہ کل ہی کر سکتے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

وزیر ریلوے نے 31 دسمبر تک ٹرینوں میں موجود خامیاں دور نہ کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی کرنے کا بھی اعلان کر دیا۔