بھارت کے محکمہ مواصلات (DoT) نے ملک میں بڑھتے ہوئے سرحد پار سائبر فراڈ اور آن لائن جعل سازی پر قابو پانے کے لیے ایک انتہائی اہم اور سخت قدم اٹھاتے ہوئے تمام میسجنگ پلیٹ فارمز کو لازمی ‘سیم بائنڈنگ (SIM-binding) پروٹوکولز نافذ کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ واٹس ایپ اور ٹیلیگرام جیسی مشہور و معروف او ٹی ٹی (OTT) کمیونیکیشن ایپس کو اس مقصد کے لیے 31 دسمبر 2026 تک کی مہلت دی گئی ہے۔ ٹیلی کام سائبر سیکیورٹی رولز 2024 کے تحت جاری ہونے والی اس نئی پالیسی کا بنیادی مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ جو اکاؤنٹس بھارتی موبائل نمبرز پر بنائے گئے ہیں، وہ اسی ڈیوائس میں موجود فعال فزیکل سیم یا ای-سیم (eSIM) کے ساتھ جڑے رہیں، تاکہ جعل ساز بیرون ملک بیٹھ کر بغیر سیم کے اکاؤنٹس کا غلط استعمال نہ کر سکیں۔
نئے ضوابط کے تحت، یکم جنوری 2027 سے تمام متعلقہ میسجنگ ایپس کے لیے یہ لازمی ہو جائے گا کہ وہ مسلسل یہ تصدیق کرتی رہیں کہ رجسٹرڈ موبائل نمبر اسی ڈیوائس میں موجود ہے یا نہیں۔ اگر کوئی صارف رجسٹرڈ سیم کارڈ کو موبائل سے نکال لیتا ہے، اسے تبدیل کر دیتا ہے یا کنکشن بند کرا دیتا ہے، تو متعلقہ میسجنگ پلیٹ فارم کو خودکار طور پر اس اکاؤنٹ تک رسائی محدود یا بلاک کرنا ہوگی جب تک کہ اس ڈیوائس پر دوبارہ سیم کی سطح پر تصدیق مکمل نہ ہو جائے۔ اس اقدام سے وہ تمام سقم ختم ہو جائیں گے جن کی مدد سے صارفین وائی فائی کے ذریعے بغیر کسی فعال اور کے وائی سی تصدیق شدہ سیم کے طویل عرصے تک میسجنگ اکاؤنٹس استعمال کرتے رہتے ہیں۔
محکمہ مواصلات (DoT) نے یہ سخت قدم ان بین الاقوامی فراڈ سنڈیکیٹس کے خاتمے کے لیے اٹھایا ہے جو بھارتی سمیں حاصل کر کے ان پر میسجنگ اکاؤنٹس رجسٹر کرتے ہیں اور پھر سمیں نکال کر بیرون ملک سے بھارتی شہریوں کے خلاف فشنگ، جعل سازی اور “ڈیجیٹل گرفتاری” (digital arrest) جیسے اسکیمز چلاتے ہیں۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق، سال 2024 میں بھارت کو سائبر فراڈ کے نتیجے میں 22,800 کروڑ روپے سے زائد کا مالی نقصان اٹھانا پڑا تھا، جس کے بعد اس نوعیت کے حفاظتی اقدامات ناگزیر ہو چکے تھے۔
اگرچہ واٹس ایپ اور ٹیلیگرام جیسے بڑے پلیٹ فارمز اس دائرہ کار میں مکمل طور پر شامل ہیں، تاہم ٹیکنالوجی کے ماہرین اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ آیا یہ نئے قوانین سنیپ چیٹ اور پرائیویسی پر مبنی سگنل (Signal) جیسی ایپس پر بھی لاگو ہوں گے۔ دوسری جانب، حکام کا کہنا ہے کہ یہ اصول تمام فزیکل سمز اور ای-سیم پروفائلز پر یکساں طور پر نافذ ہوں گے، اور وہ عام صارفین جو اپنے پرائمری فونز میں فعال کنکشنز استعمال کر رہے ہیں، انہیں کسی قسم کی سروس کی بندش یا رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔













پیر 26 اکتوبر 2026 

