اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سوشل میڈیا پر ایک اعترافی بیان سامنے آیا ہے جس میں افغان ننگر ہار کے رہائشی سطورے نے اپنی ٹی ٹی پی میں شمولیت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مخصوص شخصیات کے خلاف ٹارگٹ کلنگ کی سازش پر اعتراف کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ملزم نے اپنی ابتدائی زندگی، تعلیمی پس منظر اور کارروائیوں میں شامل افراد کے نام بیان کیے ہیں۔
اعترافی بیان کے مطابق سطورے نے گورنمنٹ کالج حضرت خان، ننگر ہار سے انٹرمیڈیٹ مکمل کیا اور بعد ازاں غزنی یونیورسٹی سے فقہ میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کی۔ اس نے کابل کے مدرسے عبداللہ بن زبیر میں درسِ تدریس کا بھی ذکر کیا اور ننگر ہار میں ادویات کی ڈلیوری کے ملازمت کے دور کا تذکرہ بھی کیا ہے۔
بیان میں سطورے نے کہا کہ اسے عاصم نے تحریکِ طالبانِ پاکستان (ٹی ٹی پی) میں شمولیت کی دعوت دی، اور کابل میں ٹی ٹی پی کمانڈر قاری محمد سے ملایا گیا۔ سطورے نے بتایا کہ اس نے قاری محمد کے ہاتھ پر بیعت کی اور بعد ازاں علاج کے لیے پشاور آیا، جہاں علاج کے بعد کمانڈر قاری محمد نے اسے پشاور کے ایک مدرسے میں داخل کروا دیا۔ اعترافی بیان میں مزید کہا گیا کہ قاری محمد نے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں اور مخصوص عالم دین کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کے احکامات جاری کیے۔
سطورے نے تسلیم کیا کہ وہ ٹارگٹ کلنگ کے منصوبے میں ملوث تھا لیکن منصوبے کو عملی شکل دینے سے قبل ہی گرفتار ہو گیا۔ متعلقہ حکام نے ابھی تک اس اعترافی بیان کی خودمختار تصدیق اور قانونی کارروائی کے بارے میں باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی ہیں، تاہم یہ معاملہ انسدادِ دہشت گردی قانون کے تحت کارروائی کے دائرہ میں لایا جائے گا۔
سیکیورٹی اور انٹیلی نسل حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسے کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاعات فوراً متعلقہ اداروں کو فراہم کریں تاکہ دہشت گردانہ سازشوں کو وقت پر روکا جا سکے۔
Monitoring:
Afghanistan & IAG: The Breeding Ground of Terrorism 🧵
Falsely blaming others while terrorism flourishes within their own borders & among their own citizens
🟥 Confession Statement of Arrested Afghan Citizen 'DAESH' Terrorist
📽 Part 1/9 pic.twitter.com/N7eGQnzFlO
— Hybrid Front Pakistan (@PakHF_) October 27, 2025












بدھ 29 اکتوبر 2025 