ایران کا دو ارب ڈالر سے زائد کا خفیہ فوجی نیٹ ورک اور خلیجی کشیدگی پر رپورٹ

Calender Icon جمعہ 30 اکتوبر 2026

دبئی: عالمی خبر رساں ادارے ’روئٹرز‘ کی ایک سنسنی خیز تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ایران نے شدید ترین مغربی اقتصادی پابندیوں اور امریکی بحری ناکابندی کے باوجود پانچ ہزار سے زائد ملٹری سے منسلک ایجنسیوں کا ایک انتہائی وسیع اور خفیہ نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے ’روئٹرز‘ اور اسرائیل-امریکی رسک کنسلٹنسی240 اینالیٹکس کی ایک مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ نے ایران کے خفیہ ملٹری سپلائی نیٹ ورک سے پردہ اٹھایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے عالمی پابندیوں کی دھجیاں اڑاتے ہوئے پانچ ہزار سے زائد ایسی پراکسی ایجنسیوں کا جال بچھا رکھا ہے جن کے نام کا آغاز سے ہوتا ہے، جو کہ ایران کی وزارتِ دفاع (Ministry of Defence) کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

یہ تمام ادارے تہران میں ایران کی وزارتِ دفاع اور آرمڈ فورسز لاجسٹکس کا ایک ہی سرکاری پتہ استعمال کرتے ہیں۔ ان میں سے متعدد ایجنسیوں کے روابط براہِ راست پاسدارانِ انقلاب (IRGC) اور بڑی کاروباری مذہبی تنظیموں (Bonyads) سے ملے ہیں۔ سرکاری ریکارڈ میں ان کا قیام 11 فروری 1979ء کا دکھایا گیا ہے، لیکن حقیقت میں ان میں سے بیشتر کمپنیاں 2013ء میں اس وقت قائم کی گئیں جب ایران پر عالمی برادری نے سخت ترین سیکیورٹی اور اقتصادی پابندیاں عائد کی ہوئی تھیں۔

بین الاقوامی جہاز رانی (Shipping Records)، ایرانی بینکنگ ریکارڈز، کاروباری فائلاں اور تقریباً 19 ہزار برآمدی دستاویزات کے باریک بینی سے کیے گئے تجزئیے سے معلوم ہوا ہے کہ اس نیٹ ورک میں شامل صرف ایک دفاعی ادارے، جسے “MOD 346428کا کوڈ دیا گیا ہے، نے جنوری 2025ء سے جون 2026ء کے 18 مہینوں کے دوران 2.3 ارب ڈالر سے زائد کا حساس اور فوجی نوعیت کا سامان حاصل کیا۔

اس خفیہ خریدارانہ نیٹ ورک کے ذریعے انتہائی مہلک میزائلوں اور ڈرونز کی تیاری میں استعمال ہونے والا خام مال، کیمیائی دھماکہ خیز مواد، اعلیٰ معیار کا راکٹ ایندھن، جیٹ طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کے پرزے، اور بھاری صنعتی مشینری برآمد کی گئی۔

علاوہ ازیں، صرف ایک ایجنسی نے اسی عرصے کے دوران 435 الوی کو (Iveco) بھاری ٹرک بھی خریدے، جنہیں بعد میں موبائل میزائل لانچرز کی شکل میں ڈھالا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہزاروں کی تعداد میں ٹویوٹا ہلکس، لینڈ کروزر اور ٹنڈرا گاڑیوں کی خریداریاں بھی ریکارڈ کا حصہ بنی ہیں۔

رپورٹ میں سب سے اہم انکشاف یہ سامنے آیا ہے کہ جائزہ لی گئی 97 فیصد برآمدات اور خریداریاں ایسی تھیں جن میں کسی قسم کی کرنسی یا روایتی بینکنگ ٹرانسفر کا تبادلہ درج نہیں تھا۔ ایران نے غیر قانونی تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی وہ رقم استعمال کی جو بیرونِ ملک نجی کھاتوں میں رکھی گئی تھی، اور بینکنگ نظام کو چھوئے بغیر ادائیگی انجام دی گئی۔

مغربی ممالک کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ان پانچ ہزار سے زائد ایجنسیوں کو انفرادی طور پر ابھی تک امریکہ یا یورپی یونین کی جانب سے باضابطہ بلیک لسٹ ہی نہیں کیا گیا تھا، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران اپنے میزائل پروگرام کو بلا تعطل ایندھن اور پرزے فراہم کرتا رہا۔

28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ شروع ہونے والی جنگ کے باوجود ایران کے سپلائی روٹس مکمل طور پر بند نہیں ہو سکے۔ بحرِ قزوین (Caspian Sea) کے ذریعے روسی مال بردار جہازوں، وسطی ایشیا کے زمینی راستوں سے آنے والے ٹرکوں اور چین سے آنے والے کارگو طیاروں کے ذریعے جنگ کے دوران بھی سامان تہران پہنچتا رہا۔

اگرچہ مارچ میں جنگ کے آغاز پر اس سپلائی میں 47 فیصد کمی دیکھی گئی اور خریداریاں 54 ملین ڈالر پر آ گئیں، لیکن مئی تک ایران نے اپنے روٹس بحال کر کے اسے دوبارہ 77 ملین ڈالر تک پہنچا دیا۔ جنوری 2025ء سے اب تک روس سے 7.6 ملین ڈالر کے ڈیٹو نیٹرز فراہم کیے گئے، جس میں سے 1.9 ملین ڈالر کی ترسیل جون 2026ء میں کی گئی۔

ایران پر عالمی اور امریکی پابندیوں کی تاریخ پانچ دہائیوں پر محیط ہے:
1979ء: امریکی سفارت خانے کے یرغمالی بحران کے بعد پہلی بار امریکہ نے معاشی پابندیاں عائد کیں۔
2006ء – 2010ء: اقوامِ متحدہ نے نیوکلیئر مواد اور ہتھیاروں کی خریدو فروخت پر سخت ترین پابندیاں نافذ کیں۔
2015ء – 2018ء: ایٹمی معاہدے (JCPOA) کے تحت پابندیوں میں عارضی نرمی آئی، تاہم 2018ء میں ٹرمپ انتظامیہ نے دوبارہ پابندیاں بحال کر دیں۔
2025ء – 2026ء: ستمبر 2025ء میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی نےسنیپ بیک میکانزم کو فعال کر کے تمام پرانی پابندیاں بحال کر دیں، جبکہ 2026ء کی جنگ میں امریکی بحریہ نے ایرانی بندرگاہوں کی شدید ناکابندی کی، لیکن اس کے باوجود ایران کا خفیہ نیٹ ورک سامان لاتا رہا۔

تحقیقاتی رپورٹ کے منظرِ عام پر آتے ہی ایران کی اعلیٰ قیادت نے اپنے تزویراتی و دفاعی موقف کو مزید جارحانہ انداز میں پیش کیا ہے۔ ایرانی نائب صدر محمدرضا عارف نے ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ ایران تزویراتی لحاظ سے انتہائی اہم جغرافیائی گزرگاہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) پر مکمل انتظامی اور فوجی کنٹرول رکھتا ہے۔

ان کا کہنا تھا: “آبنائے ہرمز ہمارے دشمن کے لیے ایک شدید خوف اور ہیبت کا باعث بن چکی ہے، اور ایران اسے انتہائی سلیقے اور آسانی کے ساتھ کنٹرول کر رہا ہے۔ یہ سمندری گزرگاہ ہماری ہے اور اس حوالے سے ملک کی آئندہ حکمتِ عملی مزید واضح اور سخت ہوتی جائے گی۔”

ایرانی نائب صدر نے ملک کی موجودہ عسکری تیاریوں کا ماضی کی جنگوں سے موازنہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ آج ایران کی دفاعی اور عسکری صلاحیتیں پچھلی 12 روزہ اور 40 روزہ جنگوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط اور جدید ترین سطح پر موجود ہیں۔

ان کے یہ تند و تیز اور سخت بیانات ایک ایسے نازک موڑ پر سامنے آئے ہیں جب دوسری جانب امریکہ اور اسرائیل خطے میں ایران کے ممکنہ جوہری اور میزائل مراکز کے خلاف باقاعدہ فوجی کارروائیوں اور ہوائی حملوں کی شدید تیاریاں کر رہے ہیں، جبکہ بین الاقوامی سطح پر سفارت کار خطے میں کسی بھی نئی اور تباہ کن جنگ کو روکنے کے لیے سرتوڑ کوششوں میں مصروف ہیں۔