وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو چلانے اور بچانے کے لیے موجودہ رائج ماڈل کو تبدیل کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری میں خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے اس بات کا برملا اعتراف کیا کہ کراچی کے ساتھ ہمیشہ سے زیادتی ہوتی چلی آ رہی ہے اور وہ خون جلا کر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اب اس شہر کے لیے محض فریاد کرنے سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ انہوں نے کہا کہ اہلیانِ کراچی اس ملک کو کما کر دے رہے ہیں لیکن اس کے باوجود انہیں وفاق سے بھیک مانگنی پڑتی ہے۔ موجودہ سرکاری نظام پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایمانداری سے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اب یہ فرسودہ نظام مزید نہیں چل سکتا، اور پاکستان کو چلانے والوں کو بھی اب اس بات کا احساس ہوچکا ہے کہ گورننس کا یہ ڈھانچہ ناکام ہو چکا ہے۔
مصطفی کمال کا کہنا تھا کہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام کو اب انتہائی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے، اور اسی وجہ سے مخالفین کے لہجے بھی سخت ہوتے جا رہے ہیں۔ نئے یونٹس کے بننے میں جتنی زیادہ تاخیر کی جائے گی، ملک کو اتنا ہی زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسلام آباد کی بیوروکریسی کو کراچی والوں کی آمد سے ناگواری محسوس ہوتی ہے، حالانکہ پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے ہی حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔
معاشی حقائق پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مردم شماری میں گھپلے کر کے کراچی کی آبادی کو کم ظاہر کیا گیا ہے۔ 2017 کی مردم شماری میں کراچی کی آبادی ایک کروڑ ساٹھ لاکھ تھی جو 2023 کی مردم شماری میں کم ہو کر ایک کروڑ تیس لاکھ کر دی گئی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے محض چھ سال میں کراچی کی آبادی کو تیس لاکھ کم کر دیا۔ کراچی کی بندرگاہوں سے سیس کی مد میں ملنے والے 190 ارب روپے اور سیلز ٹیکس کی براہ راست رقم کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر یہ فنڈز کراچی کو ملتے تو اس کا حجم بہت زیادہ ہوتا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس سال صوبوں کو کل 8884 ارب روپے ملے ہیں اور پچھلے سترہ سالوں میں سندھ کو اتنی خطیر رقم ملی ہے کہ پورا صوبہ پچاس مرتبہ دوبارہ تعمیر کیا جا سکتا ہے۔
وزارت صحت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مصطفی کمال نے بتایا کہ انہوں نے ادویات کی رجسٹریشن کے نظام کو بہتر بناتے ہوئےڈریپ کو ڈیجیٹل کیا ہے جس سے اب اکیس دنوں میں آن لائن رجسٹریشن ہو جاتی ہے۔ جعلی ادویات کے تدارک کے لیے نومبر میں ایک موبائل ایپ متعارف کروائی جا رہی ہے، جبکہ وزارت کے ڈیٹا بینک میں چھیاسی ہزار ادویات کا ڈیٹا محفوظ کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کینسر کی مہنگی ادویات اور مارکیٹ سے ان کی غائب ہونے کی صورتحال کا بھی ذکر کیا اور عزم ظاہر کیا کہ کراچی حیدرآباد نئی موٹروے اسی سال تعمیر کی جائے گی اور نادرن بائی پاس کو بھی دوہرا کیا جا رہا ہے۔













ہفتہ 31 اکتوبر 2026 

