ایم کیو ایم پاکستان سے انتخابی نشان واپس لینے کا عندیہ، الیکشن کمیشن کا نوٹس

Calender Icon منگل 3 نومبر 2026

کراچی: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انٹرا پارٹی انتخابات مقررہ مدت میں نہ کرانے پر متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کو شوکاز نوٹس جاری کردیا۔

الیکشن کمیشن نے ایم کیو ایم پاکستان سے وضاحت طلب کی ہے کہ آئندہ انتخابات کے لیے اسے انتخابی نشان حاصل کرنے یا برقرار رکھنے کے لیے نااہل کیوں قرار نہ دیا جائے؟

الیکشن کمیشن کی جانب سے 26 اکتوبر 2026 کو جاری کیے گئے شوکاز نوٹس کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعات 208، 209 اور 215 کے تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہی ہے۔

نوٹس میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے 16 اپریل 2026 کے حکم نامے کے ذریعے انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کے لیے توسیع شدہ مدت مقرر کی تھی، جس کے تحت ایم کیو ایم پاکستان کو 15 اکتوبر 2026 تک انٹرا پارٹی انتخابات کرانا تھے، تاہم مقررہ مدت میں انتخابات نہیں کرائے گئے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 209 اور الیکشن رولز 2017 کے رول 158 کے تحت سیاسی جماعت انٹرا پارٹی انتخابات مکمل ہونے کے 7 روز کے اندر انتخابات کے انعقاد کا سرٹیفکیٹ الیکشن کمیشن میں جمع کرانے کی پابند ہے۔

شوکاز نوٹس میں ایم کیو ایم پاکستان کو ہدایت کی گئی ہے کہ نوٹس کے اجرا کے 14 روز کے اندر اپنا جواب جمع کرائے، بصورت دیگر الیکشن کمیشن قانون کے مطابق مزید کارروائی کرے گا۔

مزید پڑھیں:سابق سینیٹر مشتاق احمد سے اہلیہ نے خلع لے لی

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں سیاسی جماعت کو آئندہ انتخابات کے لیے انتخابی نشان حاصل کرنے یا برقرار رکھنے سے محروم کیا جا سکتا ہے۔