اسرائیلی اپوزیشن رہنما اور سابق آرمی چیف گادی آیزنکوٹ نے کہا ہے کہ اسرائیلی عوام نے تبدیلی اور موجودہ حکومت کی جگہ نئی حکومت لانے کے حق میں اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔
ہماری جمہوریت مضبوط اور متحرک ہے۔ ہم جلد از جلد قومی ہنگامی حکومت تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کیساتھ مل کر کام کرنے کے خواہاں ہیں۔
گادی آیزنکوٹ حالیہ پارلیمانی انتخابات کے بعد وزیراعظم نیتن یاہو کی جگہ حکومت بنانے کی کوشش کرنے والی اپوزیشن اتحاد کے وزیراعظم کے امیدوار ہیں۔ نفتالی بینیٹ، یائیر لاپید، آویگدور لائبرمین اور یائیر گولان سمیت اپوزیشن رہنماؤں نے ان کی حمایت کی ہے۔
اسرائیلی پارلیمنٹ میں حکومت بنانے کیلیے 61 نشستوں کی ضرورت ہوتی ہے ، حالیہ اسرائیلی انتخابات میں کوئی بھی جماعت واضح اکثریت حاصل نہیں کر سکی،
نیتین یاہو کی جماعت کو 53 اور اپوزیشن اتحاد کو 48 اور عرب جماعتوں کو 19 نشستیں ملیں۔ اپوزیشن اتحاد حکومت بنانے کیلیے عرب جماعتوں کو اپنے ساتھ ملانے کیلیے سرگرم ہے۔
ایکس پر اپنے بیان میں گادی آیزنکوٹ کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد اسرائیل کو ایسی نئی قیادت فراہم کرنا ہے جو تمام اسرائیلی شہریوں کے مفادات کی نمائندگی کرے۔
اتحادیوں کے ساتھ مل کر مضبوط اسرائیل تعمیر کیا جائے گا، جو یہودی اور جمہوری ریاست ہونے کے ساتھ آزاد خیال اقدار اور تمام شہریوں کے لیے مساوات پر یقین رکھتا ہو۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور امریکا کے تعلقات محض دو حکومتوں کے درمیان اتحاد نہیں بلکہ دونوں ملکوں کے عوام کے مابین نسلوں پر محیط شراکت داری ہیں، جو مشترکہ جمہوری اقدار اور باہمی اعتماد پر قائم ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی شراکت داری کو مزید مضبوط اور گہرا کیا جائے گا، اس کے لیے دونوں امریکی جماعتوں کی دیرینہ حمایت کو برقرار رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔
گادی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے ساتھ قریبی اور تعمیری تعاون کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک مشترکہ سلامتی کے مفادات کو آگے بڑھانے۔
علاقائی استحکام مضبوط کرنے اور مشرق وسطیٰ کے عوام کے لیے خوشحالی کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے مل کر کام کر سکتے ہیں۔
انہوں نے مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے خاتمے کے ساتھ مواقع اور باہمی تعاون پر مبنی خطے کی ترقی کے عزم کا اظہار کیا۔گادی آیزنکوٹ نے مزید کہا کہ یہی وہ اسرائیل ہے جس پر میں یقین رکھتا ہوں اور یہی وہ مستقبل ہے جس کی تعمیر ہمارا عزم ہے۔
مزید پڑھیں:پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، 2 روز کے دوران 8 ہزار پوائنٹس کا اضافہ
خیال رہے آیزنکوٹ نے 2015 سے 2019 تک اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) کے چیف آف جنرل اسٹاف کے طور پر خدمات انجام دیں۔ فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے سیاست میں قدم رکھا، 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد وہ نیتن یاہو کی حکومت میں شامل ہوئے تاہم جون 2024 میں بینی گینٹز کے ہمراہ حکومت سے علیحدگی اختیار کر لی اور 2025 میں اپنی جماعت یشار قائم کی۔













جمعرات 5 نومبر 2026 
