پاکستان کے بینکوں اور اہم یوٹیلیٹی ڈھانچوں پر اے آئی سے لیس سائبر حملوں کا خدشہ، الرٹ جاری

Calender Icon ہفتہ 7 نومبر 2026

نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (NCERT) نے ایک باضابطہ ایڈوائزری کے ذریعے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کے مالیاتی اداروں بشمول بینکس اور اہم یوٹیلیٹی ڈھانچوں پر اے آئی سے لیس سائبر حملوں کا خدشہ ہے۔

سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے اپنی ایڈوائزری میں کہا ہے کہ سائبر حملہ آور اور جدید ترین جرائم پیشہ گروپس آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) اور خودکار بوٹس کا استعمال بڑھا رہے ہیں، جس کا مقصد منظم سائبر حملے کرنا، معلومات حاصل کرنا اور خامیوں کی نشاندہی کرنا ہے۔

ادارے کے مطابق اس جدید ٹیکنالوجی سے لیس حملوں کے خطرات بالخصوص بینکنگ و مالیاتی خدمات کے شعبے اور توانائی، گیس، پانی اور نقل و حمل یعنی ٹرانسپورٹ جیسے اہم ترین بنیادی انفراسٹرکچر پر سب سے زیادہ اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

این سی ای آر ٹی نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے آپریشنل اور ڈیجیٹل سیکیورٹی نظام کی فوری جانچ کریں۔

قومی ادارے نے پانچ نومبر کو جاری کردہ اپنی ایڈوائزری میں واضح کیا کہ جدید بوٹ نیٹس اور ایجنٹک ٹولز کے بڑھتے ہوئے استعمال نے سائبر حملوں کی رفتار، وسعت اور پیچیدگی کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔

مزیدپڑھیں:مڈ ٹرم الیکشن میں ہار کے بعد صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کا چیف آف اسٹاف تبدیل کردیا

ایڈوائزری میں بینکوں کے حوالے سے انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کور بینکنگ سسٹمز، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، پیمنٹ نیٹ ورکس اور ایپلی کیشنز پر حملوں کی کوششیں کی جا سکتی ہیں۔ ان میں آن لائن خدمات کی معطلی، لاگ ان معلومات کی چوری اور اکاؤنٹ کے بیلنس کی معلومات میں رد و بدل کی کوششیں شامل ہو سکتی ہیں۔

اس کے علاوہ اہم شہری خدمات یعنی بجلی کی پیداوار و تقسیم، تیل و گیس کی تنصیبات، واٹر سپلائی اور مینوفیکچرنگ کے صنعتی کنٹرول سسٹمز (او ٹی) میں غیر محفوظ ریموٹ ایکسس اور انڈسٹریل ڈیوائسز کے ذریعے سائبر اٹیک کا خطرناک امکان موجود ہے۔

ایڈوائزری میں سیکیورٹی ماہرین کو حملوں کی ممکنہ علامات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ جن میں مالیاتی اداروں میں مختصر وقت کے دوران خودکار انداز سے لاگ ان کی متواتر ناكام کوششیں، غیر معمولی رقم کی منتقلی اور کور بینکنگ ڈیٹا و ڈیجیٹل اسکرین پر ظاہر ہونے والے بیلنس میں فرق جیسے اشارے شامل ہیں۔

دوسری جانب بنیادی بنیادی ڈھانچے میں ریفائنریز، پاور گرڈز، درجہ حرارت کے نظام، پریشر کنٹرول یا ریموٹ ایکسس سیشنز میں اچانک اور غیر متوقع تبدیلیاں سائبر حملے کا پیش خیمہ ہو سکتی ہیں۔

اس تناظر میں ایڈوائزری میں یورپ کے سپرمارکیٹس میں پیش آنے والے حالیہ واقعات کا بھی حوالہ دیا گیا جہاں سسٹمز پر حملوں کی بدولت ریفریجریشن کے نظام مفلوج ہو گئے تھے، اگرچہ ان میں فی الوقت اے آئی کے براہِ راست ملوث ہونے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

ان حملوں سے خاطر خواہ بچاؤ کے لیے این سی ای آر ٹی نے تمام مالیاتی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایپلیکیشن پروگرامنگ انٹرفیس (اے پی آئی)، تھرڈ پارٹی انٹیگریشنز اور ادائیگیوں کے پلیٹ فارمز کی سیکیورٹی سخت کریں، نیز ملٹی فیکٹر اتھینٹیکیشن اور خودکار لاگ ان کے خلاف سیکیورٹی ڈیوائسز کو فعال کریں۔

اسی طرح افادیتِ عامہ اور صنعتی اداروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے آپریشنل ٹیکنالوجی (او ٹی) اور انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) نیٹ ورکس کو مکمل طور پر الگ رکھیں، انڈسٹریل ڈیوائسز کی براہِ راست انٹرنیٹ تک رسائی کو محدود کریں اور کسی بھی ناگہانی صورت میں نظام بحال رکھنے کے لیے بیک اپ طریقہ کار کو ہر وقت تیار رکھیں۔