امریکا نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کے اعلان کے ساتھ ہی چابہار بندرگاہ سے متعلق دی گئی رعایت بھی ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ بندرگاہ افغانستان تک تجارتی رسائی کے لیے بھارت کے اہم منصوبوں میں شمار ہوتی ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق 29 ستمبر 2025 سے IFCA (ایران فریڈم اینڈ کاؤنٹر پروولیفریشن ایکٹ) کے تحت دی گئی رعایت منسوخ ہو جائے گی۔ اس کے بعد چابہار بندرگاہ سے وابستہ سرگرمیوں میں شامل افراد اور ادارے بھی پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔بھارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ بھارت کی افغانستان میں سرمایہ کاری اور وسطی ایشیا تک رسائی پر براہِ راست اثر ڈال سکتا ہے۔ نئی دہلی نے ماضی میں اس منصوبے کو امریکا کے ساتھ تعاون کے تناظر میں خصوصی حیثیت دی تھی۔امریکا نے ایران پر نئی پابندیوں کے ساتھ چابہار بندرگاہ کے لیے دی گئی رعایت بھی ختم کر دی۔یہ رعایت بھارت کو افغانستان کی تعمیر نو اور تجارت کے لیے دی گئی تھی۔فیصلہ 29 ستمبر 2025 سے نافذ ہوگا۔بھارتی تجزیہ کاروں کے مطابق اس اقدام سے بھارت کی خطے میں اسٹریٹجک رسائی متاثر ہو سکتی ہے۔
امریکا کا بڑا فیصلہ: چابہار منصوبے پر پابندیوں کا خطرہ
جمعہ 19 ستمبر 2025 مزید خبریں
تازہ ترین
اوپن اے آئی کا رواں سال ہزاروں نئی بھرتیوں کا اعلان
10 گھنٹے قبل












