اسلام آباد : امریکا کے کریٹیکل منرلز فورم کے صدر رابرٹ لوئیس سٹرئیر نے آج وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب سے ملاقات کی۔ ملاقات میں امریکا کی ناظم الامور نیٹلی بیکر، وزارتِ خزانہ کے سینئر حکام اور متعلقہ اداروں کے نمائندگان بھی شریک تھے۔
ملاقات میں معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں تعاون کے امکانات، سرمایہ کاری کے فروغ اور ٹیکنالوجی کی منتقلی سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیرِ خزانہ نے امریکی وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے اور عالمی ریٹنگ ایجنسیاں ملک کے بارے میں مثبت اشارے دے رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کی جاری اصلاحات میں توانائی شعبے کی تنظیمِ نو، ٹیکس نظام کی بہتری اور مالیاتی استحکام کے لیے جامع روڈمیپ شامل ہے۔
وزیرِ خزانہ نے کہا کہ حکومت کریٹیکل منرلز فورم کی جانب سے تعاون کے لیے باضابطہ تجاویز کا خیرمقدم کرے گی۔ انہوں نے وزارتِ خزانہ میں ٹیکس پالیسی یونٹ کے قیام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کا مقصد پالیسی سازی کو انتظامی امور سے الگ کر کے گورننس کو بہتر بنانا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت نے 24 سرکاری اداروں کو نجکاری کمیشن کے سپرد کر دیا ہے تاکہ ان اداروں کی کارکردگی بہتر بنائی جا سکے اور مالی نظم و ضبط کو مضبوط کیا جا سکے۔
وزیرِ خزانہ نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان اس وقت عالمی تعلقات کے ایک مثبت موڑ پر کھڑا ہے — امریکا کے ساتھ تعلقات میں نئی جہتیں پیدا ہو رہی ہیں، چین کے ساتھ دیرینہ شراکت داری اور سعودی عرب کے ساتھ سٹریٹجک تعاون مزید مضبوط ہو رہا ہے۔
انہوں نے معدنیات اور کان کنی کے شعبوں کو پاکستان کی معیشت میں تبدیلی اور ترقی کا ضامن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک مضبوط منرل پالیسی کے ذریعے بیرونی خسارے کے دباؤ کو کم کیا جا سکتا ہے اور عالمی اداروں پر انحصار گھٹایا جا سکتا ہے۔
امریکی وفد کے سربراہ رابرٹ لوئیس سٹرئیر نے فورم کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ فورم دنیا بھر، بالخصوص ترقی پذیر ممالک میں، شفاف اور محفوظ معدنی سپلائی چین کے فروغ کے لیے کوشاں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فورم کی توجہ تانبے اور اینٹی مونی جیسی نایاب دھاتوں پر مرکوز ہے تاکہ ان میں سرمایہ کاری سے مالی و سیکیورٹی خطرات پر قابو پایا جا سکے۔
انہوں نے ٹیکنالوجی کی منتقلی، آئی پی کے تحفظ اور امریکی نجی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
امریکا کی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے پاکستان کے سائنس، انجینئرنگ اور ریاضی کے شعبوں میں ٹیلنٹ کو ملک کا اہم اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان مستقبل میں خطے میں معدنی ترقی کا مرکز بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے لیے مضبوط سرمایہ کار اعتماد اور موزوں ریگولیٹری فریم ورک ناگزیر ہے۔
ملاقات کے اختتام پر فریقین نے معدنیات کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیرِ خزانہ نے امریکی وفد کو واشنگٹن میں اپنی حالیہ ملاقاتوں کے دوران امریکی معاونت پر شکریہ بھی ادا کیا۔












جمعہ 31 اکتوبر 2025 