ترکیہ و قطر پاکستان کے دوست، افغان طالبان غیر سنجیدہ، خواجہ آصف

Calender Icon جمعہ 31 اکتوبر 2025

اسلام آباد: پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے افغان طالبان، بین الاقوامی ثالثوں اور بھارت سے متعلق اہم بیانات دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان سے کسی بھی سرگرمی کے حوالے سے 6 نومبر کو ایک مخصوص میکنزم تیار کیا جائے گا تاکہ صورتحال پر مؤثر کنٹرول رکھا جا سکے۔

خواجہ آصف نے واضح کیا کہ پاکستان نے افغان طالبان سے ٹی ٹی پی کے لوگوں کی منتقلی کے لیے 10 ارب روپے دینے کی پیشکش کی تھی، لیکن طالبان گارنٹی دینے کے لیے تیار نہیں تھے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ ہم زیادہ رقم دینے کے لیے تیار تھے مگر طالبان کی غیر سنجیدگی نے مسئلہ پیچیدہ کر دیا۔

انہوں نے ثالثی کے عمل میں ترکیہ اور قطر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں ممالک ہمارے دوست ہیں اور مسئلے کے حل میں معاونت کر رہے ہیں۔ خواجہ آصف نے مزید کہا کہ ہمارا اعتماد ترکیہ اور قطر پر ہے، لیکن افغان طالبان پر نہیں۔ انہوں نے کہا:
میں ترکیہ اور قطر کی بات ماننے کے لیے تیار ہوں، لیکن طالبان کی نہیں۔

افغانستان کے حوالے سے وزیر دفاع نے کہا کہ افغان قیادت پاکستان کی سرزمین کا چالیس سال تک نمک کھا چکی ہے اور ہمیں اپنے مفادات کو مقدم رکھنا ہوگا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ افغانستان کا سب سے مضبوط تعلق پاکستان کے ساتھ ہونا چاہیے، کیونکہ ابھی کابل حکومت کو صرف چند ممالک نے تسلیم کیا ہے۔

خواجہ آصف نے بھارت کے حوالے سے بھی واضح موقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے کے پی اور بلوچستان میں جارحیت شروع کر رکھی ہے اور اگر بھارت نے مزید شرارت کی تو پاکستان بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ وزیر دفاع نے کہا:
بھارت کا مقصد اسلام آباد میں دھماکے کرنا اور جنگ شروع کرنا تھا، لیکن ہم ہر ممکنہ خطرے کا جواب دینے کے لیے مستعد ہیں۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ بھارت کے وزیر اعظم مودی سیاسی طور پر دیوالیہ ہو چکے ہیں اور انتخابات کے موقع پر عوامی جذبات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کے فضل سے پاکستان کی قد کاٹھ بڑھ گئی ہے اور ہم اپنے دفاع اور قومی مفادات کی حفاظت کے لیے ہر اقدام کریں گے۔

خواجہ آصف کے بیانات میں افغان طالبان کی غیر سنجیدگی، ثالث ممالک کے کردار کی اہمیت اور بھارت کی جارحانہ پالیسیوں پر واضح روشنی ڈالی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے مفادات، سلامتی اور علاقائی امن کو مقدم رکھے گا اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔