وزیردفاع خواجہ آصف نے کہاہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے کا ڈرافٹ کافی مشاور ت کے بعد فائنل ہواہے،معاہدے کے تحت سعودی عرب میں دفاعی پروجیکٹس میں سرمایہ کاری اور ہماری ٹریننگ پر بات ہوئی ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتےہوئے خواجہ آصف نے کہاکہ پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعاون کی تاریخ رہی ہے ،پہلے بھی کئی ہزار پاکستانی فوجی سعودی عرب میں موجود تھے، اس وقت بھی تقریباً 1600فوجی وہاں ہیں ، پہلی بار دفاعی تعاون کو پیکٹ کی صورت میں لایاگیا ہے ،جس سے دفاعی تعاون مزید مضبوط ہوگااورسعودی عرب میں ہماری موجودگی زیادہ بڑھے گی ۔
ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ طالبان ہمارے بھائی نہیں ہیں،افغان طالبان نے مجھے میرے دورے کے دوران بھی گارنٹی نہیں دی کہ طالبان پاکستان میں داخل نہیں ہوں گے،افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی ہورہی ہے اس کودوست کیسے کہہ سکتےہیں،ہمارے شہری اور فوجی شہیدہورہے ہیں ۔افغانستان دورے پرگیاتو افغان باشندوں کو واپس لینے کے لئے خرچہ مانگاگیاہم خرچہ دینے کو بھی تیارہیں لیکن کیاگارنٹی ہوگی کہ یہ واپس نہیں آئیں گے
انہوں نے کہاکہ غزہ میں اس وقت قیامت کی صورتحال ہے ، امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے غزہ میں کنٹرول کی تجویزمصرودیگرممالک کو بھی دی تھی، ٹرمپ کی کوئی باقاعدہ تجویزآئی تو مسلم ممالک مشورہ کریں گے، ٹرمپ کی طرف سے کیاتجویزآتی ہے دیکھنی پڑے گی ؟ مسلم ممالک دیکھیں گے کہ امن فوج بھیجنی ہے یاکنٹرول لیناہے۔
پاک سعودی دفاعی معاہدے کا ڈرافٹ کافی مشاور ت کے بعد فائنل ہوا،خواجہ آصف
منگل 23 ستمبر 2025












