بھارتی سرپرستی میں شیخ حسینہ واجد کابنگلادیش میں سیاسی رہنماؤں کے قتل کا منصوبہ بے نقاب

Calender Icon منگل 16 دسمبر 2025

بھارتی سرپرستی میں سابق بنگلا دیشی وزیراعظم اور مفرور عوامی لیگ رہنما شیخ حسینہ واجد کے مبینہ طور پر بنگلا دیش میں سیاسی رہنماؤں کے قتل اور بدامنی پھیلانے کے منصوبوں کا انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سفاک بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور مفرور شیخ حسینہ واجد کا گٹھ جوڑ جبرو استبداد، آمریت اور سیاسی انتہا پسندی کی واضح علامت بنتا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں بنگلا دیش میں عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔

معروف عالمی خبر رساں ادارے انادولو ایجنسی کے مطابق ایک بنگلا دیشی سیاسی کارکن پر قاتلانہ حملے کے بعد بھارتی مداخلت کے خدشات کے پیش نظر ڈھاکہ میں بھارتی سفیر کو طلب کیا گیا۔ بنگلا دیشی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ مفرور شیخ حسینہ واجد آئندہ عام انتخابات کو متاثر کرنے کے لیے دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں اور بھارت انہیں یہ سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دے رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق شیخ حسینہ واجد نے سیاسی کارکن عثمان ہادی کے قتل کا منصوبہ بنگلا دیش میں متوقع عام انتخابات سے قبل تیار کیا تھا۔ انادولو ایجنسی نے یہ بھی بتایا کہ اقوام متحدہ اس امر کی نشاندہی کر چکا ہے کہ حسینہ واجد نے فرار ہونے سے قبل عوامی تحریک کے دوران تقریباً 1400 افراد کے قتل کی ذمہ داری عائد کی جاتی ہے۔

بنگلا دیشی وزارت خارجہ کے مطابق بھارت میں مقیم عوامی لیگ کے مفرور رہنما بنگلا دیش میں تشدد بھڑکانے اور دہشت گردانہ سرگرمیوں میں سرگرم ہیں، جبکہ انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کے لیے منظم کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ ڈھاکہ نے بھارت سے عثمان ہادی پر قاتلانہ حملے میں ملوث عناصر کو بنگلا دیش کے حوالے کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

انادولو ایجنسی کے مطابق ڈھاکہ میں عوامی لیگ کے شدت پسند کارکن کی فائرنگ سے عثمان ہادی شدید زخمی ہوئے، جبکہ وہ پہلے ہی شیخ حسینہ واجد کے مفرور حمایتیوں کی جانب سے درجنوں قتل کی دھمکیوں سے متعلق آگاہ کر چکے تھے۔ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عثمان ہادی کو بھارت کے فون نمبروں سے دھمکیاں دی گئیں۔

ادھر بنگلا دیشی حکام نے بھارت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ نہ صرف بنگلا دیش بلکہ امریکا، کینیڈا اور پاکستان سمیت مختلف ممالک میں دہشت گردانہ کارروائیوں، قتل کی سازشوں اور تخریبی سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے۔ بنگلا دیشی مؤقف کے مطابق بھارت کینیڈا میں ہردیپ سنگھ نجر کے قتل اور امریکا میں گروپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی سازش میں بھی پیش پیش رہا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ غاصب بھارت بیرون ملک مداخلت، دہشت گردی اور انتشار کو ہوا دے کر عالمی سطح پر شدید تنقید اور بدنامی کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ بنگلا دیش میں حالیہ انکشافات نے خطے میں سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔