افغانستان میں صاف پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا،یورپی یونین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

Calender Icon منگل 16 دسمبر 2025

کابل (انٹرنیشنل ڈیسک)افغانستان میں صاف پینے کے پانی کا بحران خطرناک حد تک شدت اختیار کر چکا ہے، جس پر یورپی یونین نے باقاعدہ طور پر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ یورپی یونین اور عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق افغان عوام بنیادی ضروریات سے محروم ہوتے جا رہے ہیں جبکہ طالبان حکومت کی ناقص حکمرانی اور بدانتظامی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

افغان نشریاتی ادارے خاما پریس کے مطابق یورپی یونین نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں دو کروڑ سے زائد افراد صاف پینے کے پانی تک رسائی سے محروم ہیں۔ انتباہ میں کہا گیا ہے کہ آلودہ پانی کے استعمال کے باعث مختلف بیماریوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جو ایک بڑے انسانی المیے کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

خاما پریس کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف نے بھی اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ افغانستان کی 80 فیصد سے زائد آبادی آلودہ پانی پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔ صاف پانی کی قلت نے نہ صرف عوامی صحت بلکہ سماجی استحکام اور غذائی سلامتی کو بھی شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

یونیسف کے مطابق پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کے باعث 2 لاکھ 12 ہزار سے زائد بچے متاثر ہو چکے ہیں، جبکہ عالمی ادارہ صحت نے افغانستان میں پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے 9 ہزار 548 کیسز ریکارڈ ہونے کی تصدیق کی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ناقص حفظانِ صحت کے نظام اور بنیادی سہولیات کی کمی صورتحال کو مزید بگاڑ رہی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ طالبان حکومت کی سخت پابندیوں اور ناقص پالیسیوں کے باعث مئی 2025 تک ملک بھر میں 442 طبی کلینک بند ہو چکے ہیں، جس سے علاج معالجے کی سہولتیں بری طرح متاثر ہوئی ہیں اور عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

خاما پریس کے مطابق افغانستان میں خراب انفراسٹرکچر، سیاسی بدانتظامی اور عوامی مسائل سے عدم توجہی نے پانی کے بحران کو ایک قومی سانحے میں تبدیل کر دیا ہے۔ عوام جہاں پینے کے صاف پانی اور بنیادی سہولیات کے لیے ترس رہے ہیں، وہیں طالبان حکومت پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ عوامی فلاح کے بجائے خطے میں عدم استحکام اور شدت پسندی سے جڑی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔

بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی پالیسیاں اور طرزِ حکمرانی نہ صرف ملک کے اندر انسانی بحران کو جنم دے رہی ہیں بلکہ افغانستان کو عالمی سطح پر بتدریج تنہائی کی طرف بھی دھکیل رہی ہیں، جس کے نتائج آنے والے وقت میں مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔