راجن پور (ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے راجن پور میں الیکٹرک گرین بس منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ راجن پور دہائیوں سے پسماندہ ضرور رہا ہے مگر اب یہ پسماندگی ختم ہونے جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک راجن پور کے تمام روٹس پر بسیں نہیں چلیں گی وہ چین سے نہیں بیٹھیں گی۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ راجن پور میں گزشتہ دو سال کے دوران 12 ارب روپے کی لاگت سے تقریباً 72 سڑکیں تعمیر کی گئی ہیں، جو خطے کی ترقی کی واضح مثال ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور کی سڑکوں پر چلنے والی جدید الیکٹرک گرین بسیں اب راجن پور کی سڑکوں پر بھی دوڑیں گی۔
مریم نواز نے کہا کہ ایک سال کے اندر پنجاب کی تمام تحصیلوں میں گرین بس سروس شروع کی جائے گی، تاکہ شہریوں کو معیاری، باعزت اور سستی سفری سہولت میسر آ سکے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت پنجاب میں 500 گرین بسیں آ چکی ہیں جبکہ مزید 1100 بسیں جلد شامل کی جائیں گی اور سال 2026 میں مزید 1500 گرین بسیں متعارف کروائی جائیں گی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بسوں کے معیار اور کرایوں میں عوام کو ہر ممکن ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے اور جدید بس اسٹاپس تعمیر کیے جا رہے ہیں تاکہ خواتین، بزرگوں، طلبہ اور خصوصی افراد کو آرام دہ انتظار کی سہولت مل سکے۔
انہوں نے کہا کہ راجن پور پنجاب کا آخری ضلع ضرور ہے لیکن مریم نواز اور نواز شریف کے دل سے دور نہیں بلکہ بہت قریب ہے۔ خطاب کے دوران انہوں نے بلوچ ثقافت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے بلوچی پگڑی، چادر اور ٹوپی کو سلام پیش کیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) پر صرف لاہور میں کام کرنے کا الزام غلط ہے اور راجن پور جیسے دور دراز علاقوں میں ترقیاتی منصوبے اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت پورے پنجاب میں یکساں ترقی چاہتی ہے۔
انہوں نے ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ اور وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں باعزت اور معیاری پبلک ٹرانسپورٹ کا مضبوط نیٹ ورک قائم کیا جا رہا ہے تاکہ عام شہری کو جدید سفری سہولت میسر آ سکے۔












بدھ 4 فروری 2026 