وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ جاری مذاکرات درست اور مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں اور حکومت کی جانب سے کسی قسم کے اضافی ٹیکس عائد کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
یہ بات انہوں نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس کے دوران کہی، جس کی صدارت سینیٹر سلیم مانڈوی والا کر رہے تھے۔ وزیر خزانہ نے کمیٹی کو معیشت کی حالیہ صورتحال اور جاری مالیاتی حکمت عملی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔
بین الاقوامی بانڈز اور سرمایہ کاری کی حکمت عملی
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ حکومت سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کر رہی ہے، اور اسی سلسلے میں چین میں پانڈا بانڈ جاری کیے جا رہے ہیں۔ ابتدائی مرحلے میں 25 کروڑ ڈالر کے بانڈز جاری ہوں گے، جن کے لیے چینی سرمایہ کاروں نے دلچسپی ظاہر کی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ، وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان نے 50 کروڑ ڈالر کے یورو بانڈز کی ادائیگی کر دی ہے، جب کہ اپریل 2026 میں مزید 1 ارب 30 کروڑ ڈالر کی ادائیگی متوقع ہے۔
ٹیکس اہداف، عدالتی مقدمات اور مالی نظم و ضبط
وزیر خزانہ نے تسلیم کیا کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ٹیکس شارٹ فال دیکھا گیا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ متعدد ٹیکس مقدمات عدالتوں میں زیر التوا ہیں، اور ان کے فیصلے سے ٹیکس وصولیوں میں بہتری آئے گی۔ حکومت کا ہدف ہے کہ مالی سال کے اختتام تک ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 11 فیصد تک پہنچا دی جائے، اور اس میں سنجیدگی سے کام جاری ہے۔
کرپٹو کرنسی پر ریگولیشن اور وژن
محمد اورنگزیب نے معاشی جدت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کرپٹو کرنسی ایک ابھرتی ہوئی معیشت ہے اور پاکستان کو بھی اس شعبے میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ ورچوئل اتھارٹی بل پر کام جاری ہے تاکہ اس غیر ریگولیٹڈ شعبے کو باقاعدہ قانون کے دائرے میں لایا جا سکے۔
آئی ایم ایف مذاکرات کا پس منظر
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کے دوسرے جائزے اور 1.3 ارب ڈالر کے کلائمیٹ فنانسنگ پروگرام کے پہلے جائزے کے لیے باقاعدہ مذاکرات 29 ستمبر سے جاری ہیں۔ پاکستانی وفد نے آئی ایم ایف کو معیشت کی مجموعی کارکردگی اور قرض پروگرام کے اہداف پر عملدرآمد سے متعلق اعتماد میں لیا ہے۔
آئی ایم ایف کا وفد ملک کی معاشی صورتحال، حالیہ سیلاب کے اثرات اور بجٹ اہداف کا بھی جائزہ لے رہا ہے۔ مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں بورڈ کی منظوری کے بعد قرض کی اگلی قسط جاری کی جائے گی۔
اضافی ٹیکس نہیں لگا رہے، آئی ایم ایف سے مذاکرات مثبت سمت میں جا رہے ہیں،وزیر خزانہ
بدھ 1 اکتوبر 2025












