مودی کی روس نواز پالیسیوں کے باعث بھارتی نوجوان غیر ملکی جنگ کا ایندھن بن گئے

Calender Icon اتوار 15 مارچ 2026

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) بھارت میں وزیرِ اعظم نریندر مودی کی روس نواز پالیسیوں کے باعث بھارتی نوجوانوں کے غیر ملکی جنگوں میں استعمال ہونے کے انکشافات سامنے آنے لگے ہیں۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق روزگار اور تعلیم کے جھانسے میں آ کر بیرون ملک جانے والے کئی نوجوان روسی جنگی محاذوں تک پہنچ گئے۔

بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست پنجاب کے شہر لدھیانہ سے تعلق رکھنے والا نوجوان سمرجیت سنگھ روس میں جنگ لڑتے ہوئے ہلاک ہو گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سمرجیت سنگھ دو ہزار پچیس میں اعلیٰ تعلیم اور بہتر روزگار کی تلاش میں روس گیا تھا۔

اخبار کے مطابق روس منتقل ہونے کے چند ماہ بعد ہی سمرجیت سنگھ کا اپنے خاندان سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا جس کے بعد اہلِ خانہ نے کئی ماہ تک بھارتی سرکاری اداروں اور وزارتِ خارجہ سے مدد کی اپیلیں کیں، تاہم انہیں کوئی مؤثر جواب نہیں ملا۔

سمرجیت سنگھ کے والد نے بھارتی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے بیٹے سے رابطے کے لیے ہر ممکن کوشش کی مگر کسی سرکاری ادارے نے مدد فراہم نہیں کی۔

بھارتی وزارتِ خارجہ بھی گزشتہ برس دسمبر میں یہ تسلیم کر چکی ہے کہ دو سو سے زائد بھارتی شہری روسی فوج میں بھرتی ہوئے جن میں چھبیس ہلاک جبکہ سات لاپتہ ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت نے روس کے ساتھ اسٹریٹجک قربت اور سستے تیل کے مفادات کے لیے بھارتی نوجوانوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی ہیں۔ ان کے مطابق روزگار کے جھانسے میں نوجوانوں کو بیرون ملک بھیج کر جنگی محاذوں تک پہنچانا حکومتی پالیسی کی سنگین ناکامی اور بے حسی کو ظاہر کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق سمرجیت سنگھ کا واقعہ محض ایک فرد کی موت نہیں بلکہ بھارت کے اندرونی معاشی مسائل اور کمزور سفارت کاری کی بھی عکاسی کرتا ہے۔