آبنائے ہرمز خلیج فارس اور بحرِ عمان کے درمیان ایک تنگ مگر انتہائی اہم سمندری راستہ ہے، جس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پوری دنیا کی معیشت اس پر گہری نظر رکھتی ہے۔
یہ گزرگاہ خلیج فارس کو بحرِ عمان اور پھر بحیرہ عرب سے جوڑتی ہے، یعنی خلیج فارس سے کھلے سمندر تک جانے کا یہ واحد بڑا بحری راستہ ہے، جس کی وجہ سے اس کا محلِ وقوع نہ صرف جغرافیائی بلکہ سیاسی اور عسکری اعتبار سے بھی انتہائی حساس ہے۔
آبنائے ہرمز تقریباً 167 کلومیٹر طویل ہے اور اس کی چوڑائی مختلف مقامات پر مختلف ہے۔ کچھ حصوں میں یہ 97 کلومیٹر تک چوڑی ہے، جبکہ تنگ ترین مقام پر صرف 33 سے 39 کلومیٹر تک رہ جاتی ہے۔ شمال میں ایران جبکہ جنوب میں عمان کا مسندم علاقہ اور متحدہ عرب امارات واقع ہیں۔
اس علاقے کی اسٹریٹیجک اہمیت میں ایران کے صوبہ **ہرمزگان** اور اس کی اہم بندرگاہ **بندر عباس**، نیز قشم، ہرمز، ہنگام اور لار جیسے جزائر کا بھی اہم کردار ہے۔
سب سے بڑی اہمیت اس راستے کی توانائی کی ترسیل میں ہے۔ دنیا کے بڑے تیل برآمد کرنے والے ممالک جیسے سعودی عرب، ایران، عراق، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات کا بڑا حصہ اسی گزرگاہ سے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق یہاں سے روزانہ تقریباً 20 ملین بیرل تیل اور پیٹرولیم مصنوعات گزرتی ہیں، جو عالمی تیل کی کھپت کا تقریباً 20 فیصد بنتی ہیں۔
تاریخی طور پر بھی آبنائے ہرمز کی اہمیت صدیوں پر محیط ہے۔ قدیم زمانے میں یہ مشرق اور مغرب کے درمیان تجارت کا اہم دروازہ تھا، جہاں سے چین کی ریشم، کپڑا، ہاتھی دانت اور دیگر قیمتی اشیاء گزرتی تھیں۔
جدید دور میں بھی یہ گزرگاہ کئی عالمی تنازعات کا مرکز رہی ہے۔ 1980 کی دہائی میں ایران-عراق جنگ کے دوران “ٹینکر وار” میں تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد ایران نے اس پر اپنا اثر و رسوخ اسٹریٹیجک طاقت کے طور پر استعمال کیا۔ چونکہ یہ راستہ نہایت تنگ اور مصروف ہے، یہاں کوئی بھی چھوٹا واقعہ بھی بڑے عالمی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز: دنیا کی معیشت کے لیے اہم ترین راستہ
جمعہ 27 مارچ 2026












