ایرانی حملوں سے خلیجی ممالک میں امریکی اڈے ناکارہ، فوجی ہوٹلوں میں منتقل

Calender Icon جمعہ 27 مارچ 2026

امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایرانی حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں قائم امریکا کے کئی فوجی اڈے شدید نقصان کا شکار ہو گئے ہیں، جس کے باعث بڑی تعداد میں امریکی فوجیوں کو ہنگامی طور پر ہوٹلوں اور دفتری عمارتوں میں منتقل کرنا پڑا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس غیر معمولی صورتحال نے امریکی فوجی نظام کو متاثر کیا ہے اور اب زمینی افواج کا بڑا حصہ روایتی اڈوں کی بجائے دور سے کارروائیاں کرنے پر مجبور ہے، جبکہ صرف محدود فضائی عملہ ہی متاثرہ اڈوں پر موجود رہ گیا ہے۔
ایرانی حملوں میں کویت، قطر، بحرین اور سعودی عرب میں قائم اہم امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں العدید ایئر بیس، علی السالم ایئر بیس اور پرنس سلطان ایئر بیس شامل ہیں۔ ان حملوں میں متعدد امریکی اہلکار ہلاک اور زخمی بھی ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 13 میں سے بیشتر امریکی اڈے متاثر ہوئے، خاص طور پر کویت کی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا، جس کے بعد امریکی افواج کو اپنی موجودگی اور آپریشنل طریقہ کار تبدیل کرنا پڑا۔
ادھر ایرانی پاسداران انقلاب نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ امریکی فوجیوں کے نئے ٹھکانوں کی نشاندہی کریں، جبکہ ایران نے امریکا پر شہری علاقوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق اس صورتحال نے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ پر دباؤ بڑھا دیا ہے، کیونکہ بدلتی ہوئی جنگی حکمت عملی اور فوجی اڈوں کی کمزوری نے امریکا کی تیاریوں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔