سانحہ گیاری سیکٹر کے شہداء کی لازوال قربانی کی 14 ویں برسی

Calender Icon منگل 7 اپریل 2026

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)سانحہ گیاری سیکٹر کے شہداء کی لازوال قربانی کی 14 ویں برسی آج عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے، جہاں پوری قوم اپنے ان بہادر سپوتوں کو خراجِ عقیدت پیش کر رہی ہے جنہوں نے وطن کے دفاع کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

یاد رہے کہ 7 اپریل 2012 کو دنیا کے بلند ترین محاذ جنگ سیاچن میں ایک دل سوز سانحہ پیش آیا، جب ایک بڑے برفانی تودے نے پاک فوج کے بٹالین ہیڈ کوارٹر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس المناک حادثے میں 129 فوجی جوان اور افسران شہید ہو گئے، جو اس وقت ملکی سرحدوں کے دفاع کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔

سیاچن کا محاذ نہ صرف دشمن کے مقابلے کا میدان ہے بلکہ دنیا کے سخت ترین موسمی حالات بھی یہاں تعینات اہلکاروں کے لیے مسلسل چیلنج بنے رہتے ہیں۔ شدید سردی، برفانی طوفان اور دشوار گزار علاقے میں خدمات انجام دینا کسی بھی سپاہی کے لیے غیر معمولی جرات اور حوصلے کا تقاضا کرتا ہے۔

سانحہ گیاری کے بعد ریسکیو آپریشن کو عالمی سطح پر ایک انتہائی مشکل اور تقریباً ناممکن مشن قرار دیا گیا، تاہم پاک فوج کی انجینئرز کور نے جذبہ حب الوطنی کے تحت اس چیلنج کو قبول کیا۔ پاک فوج کے افسران اور جوانوں نے مسلسل جدوجہد، مہارت اور عزم کے ساتھ اس مشکل ترین آپریشن کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔

شہداء کی یاد کو زندہ رکھنے کے لیے سیاچن کے محاذ پر یادگارِ شہداء بھی تعمیر کی گئی ہے، جہاں ان عظیم قربانیوں کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا گیا ہے۔

ملک بھر میں آج مختلف تقاریب اور دعائیہ اجتماعات کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جہاں شہداء کے درجات کی بلندی اور وطن کی سلامتی کے لیے خصوصی دعائیں کی جا رہی ہیں۔ قومی قیادت اور عوام کا کہنا ہے کہ شہدائے گیاری کی قربانیاں ہمیشہ قوم کے لیے مشعل راہ رہیں گی اور ان کا یہ ایثار پاکستان کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔