پاکستان ثالثی نہ کرتا تو ترکیہ اسرائیل پر حملہ کردیتا؟ اردوان، بیان فیک ہے، ترک حکام

Calender Icon جمعرات 16 اپریل 2026

سوشل میڈیا پر ان دنوں رجب طیب اردوان سے منسوب ایک بیان تیزی سے وائرل ہورہا ہے، جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اگر پاکستان، امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی (meditation)نہ کرتا تو ترکیہ اسرائیل پر حملہ کردیتا۔

یہ ویڈیو 11 اپریل کو ایکس (ٹوئٹر) پر شیئر کی گئی، جس کے ساتھ ایک ایسا کیپشن شامل کیا گیا جس میں پاکستان کے کردار اور اسرائیل کے خلاف ممکنہ کارروائی کا ذکر تھا۔ اس پوسٹ کو لاکھوں افراد نے دیکھا، ہزاروں بار لائیک کیا گیا اور بڑے پیمانے پر شیئر بھی کیا گیا، جس کے بعد یہ دعویٰ دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک پھیل گیا۔

حقیقت جاننے کے لیے جب ویڈیو کی جانچ کی گئی تو معلوم ہوا کہ یہ کلپ دراصل 10 اپریل کو استنبول میں ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں اردوان کے خطاب کا حصہ ہے۔ یہ خطاب انٹرنیشنل کانفرنس آف ایشین پولیٹیکل پارٹیز (ICAPP) کے نویں اجلاس کے موقع پر کیا گیا تھا۔

مکمل ویڈیو دیکھنے سے واضح ہوتا ہے کہ اردوان نے اپنی تقریر میں پاکستان کا کوئی ذکر نہیں کیا بلکہ لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے اعلان کے دن اسرائیل نے سیکڑوں لبنانی شہریوں کو نشانہ بنایا اور انسانی اقدار کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی۔

مزید برآں، ترکیہ کے سرکاری ادارے ڈس انفارمیشن کاؤنٹر ایکشن سینٹر نے بھی اس وائرل دعوے کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ صدر اردوان نے نہ تو اسرائیل پر حملے کی بات کی اور نہ ہی پاکستان کے کسی کردار کا حوالہ دیا۔

مزید پڑھیں:وزیرِ اعظم شہباز شریف اپنے دورہ ترکیہ پر انطالیہ پہنچ گئے، وفد کا پرتپاک استقبال

ترک میڈیا اداروں نے بھی اس خطاب کو تفصیل سے رپورٹ کیا، تاہم کسی معتبر رپورٹ میں وہ باتیں شامل نہیں تھیں جو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔

یوں دستیاب شواہد سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ وائرل ہونے والا بیان حقیقت پر مبنی نہیں بلکہ ایک گمراہ کن دعویٰ ہے، جس میں اصل تقریر کے سیاق و سباق کو بدل کر پیش کیا گیا۔