ملک میں بجلی کی صورتحال سے متعلق پاور ڈویژن کے ترجمان نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ رات پیک ٹائم کے دوران بجلی ک فراہمی مجموعی طور پر بہتر رہی۔
ترجمان کے مطابق صوبوں کی جانب سے بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے ڈیموں سے زیادہ پانی کے اخراج کے ذریعے 5125 میگاواٹ بجلی پیدا کی گئی، جبکہ ملک کے جنوبی حصوں سے مرکز کی جانب 400 میگاواٹ بجلی کی ترسیل بھی گرڈ میں استحکام کے باعث ممکن بنائی گئی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے بڑھتی ہوئی طلب کے باوجود مؤثر حکمت عملی کے تحت صرف ایک سے دو گھنٹے کی لوڈ مینجمنٹ کی، جس سے صارفین کو نسبتاً کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
مزیدپڑھیں:پاکستانی فری لانسرز کا عالمی مارکیٹ میں بڑھتا کردار ،زرمبادلہ میں خاطر خواہ اضافہ
ترجمان نے واضح کیا کہ زیادہ نقصانات والے فیڈرز پر پالیسی کے مطابق اکنامک لوڈ مینجمنٹ جاری رہے گی، تاہم اس کا پیک ٹائم لوڈ مینجمنٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایل این جی کی دستیابی بہتر ہونے سے پیک ٹائم لوڈ مینجمنٹ بھی ختم ہو سکتی ہے، لیکن اس وقت ایل این جی کی کمی کے باعث تقریباً 5500 میگاواٹ کے پاور پلانٹس سے بجلی پیدا نہیں ہو رہی، جو بجلی کی مجموعی فراہمی کو متاثر کر رہی ہے۔












بدھ 22 اپریل 2026 