معرکۂ حق کے بعد پاکستان(Pakistan) کی سیاسی و عسکری قیادت کی مربوط حکمتِ عملی اور فعال سفارتکاری کے باعث ملک کا عالمی وقار نمایاں طور پر بلند ہوا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جنگی محاذ پر کامیابی کے بعد پاکستان نے سفارتی میدان میں بھی مؤثر انداز میں اپنا مؤقف پیش کیا، جس سے عالمی سطح پر اس کی پوزیشن مضبوط ہوئی۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی قیادت نے اہم عالمی طاقتوں اور خطے کے ممالک سے رابطوں کو تیز کیا، جن میں امریکا، چین، سعودی عرب، ترکیہ، روس اور ایران شامل ہیں۔ ان روابط کے دوران دوطرفہ تعلقات کے فروغ، خطے میں امن کے قیام اور باہمی تعاون کے فروغ پر زور دیا گیا۔
سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹیجک نوعیت کے دفاعی تعاون کو بھی اس پیش رفت کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جو دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی جہت دے سکتا ہے۔ اسی طرح ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں پاکستان کا ثالثی کردار بھی متوازن خارجہ پالیسی کی عکاسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں اور قربانیوں کو بھی سراہا گیا ہے۔ مبصرین کے مطابق مختلف عالمی رہنماؤں نے پاکستان کی قیادت کو خطے میں امن و استحکام کے لیے اہم کردار ادا کرنے والا قرار دیا۔
مزیدپڑھیں:پی ایس ایل 11: کراچی کنگز اور لاہور قلندرز کیلیے صورتحال نازک ہو گئی
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فعال ڈپلومیسی، متوازن خارجہ پالیسی اور بروقت فیصلوں نے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک ذمہ دار اور مؤثر ریاست کے طور پر پیش کیا ہے، جس کے اثرات مستقبل کی علاقائی سیاست پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔












ہفتہ 25 اپریل 2026 