وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری(Muhammad Junaid Anwar) نے خلیجی ممالک جانے والی شپمنٹس میں حالیہ تاخیر کے باعث متاثرہ برآمدکنندگان کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کے ٹرمینلز پر اسٹوریج چارجز میں 25 سے 50 فیصد تک چھوٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔
برآمدکنندگان کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ٹرمینل آپریٹرز کے ساتھ تعمیری مشاورت کے بعد چیئرمین کے پی ٹی ریئر ایڈمرل شاہد احمد (ر) نے وزیر بحری امور کی ہدایت پر اقدامات کی قیادت کی۔ جس کے تحت کے جی ٹی ایل میں یکم سے 20 مارچ 2026ء تک 50 فیصد، کے آئی سی ٹی میں یکم سے 10 مارچ 2026ء تک 50 فیصد جبکہ ایس اے پی ٹی میں 11 سے 31 مارچ 2026ء تک 25 فیصد اسٹوریج چارجز میں رعایت دی گئی۔
جنید انوار چوھدری نے بتایا کہ یہ سہولت ان برآمدی کنٹینرز پر لاگو ہوگی جو آپریشنل مسائل کے باعث جہازوں پر لوڈ نہ ہو سکے اور ٹرمینل یارڈز میں پھنسے رہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد درآمدکنندگان و برآمدکنندگان پر مالی دباؤ کم کرنا، زیر التواء کھیپوں کی کلیئرنس کو یقینی بنانا اور کارگو ہینڈلنگ کے عمل کو تیز بنانا ہے۔
محمد جنید انوار چوہدری نے کراچی بندرگاہ کے چئرمین کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ برآمدی شعبے کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے جس سے تجارتی سرگرمیوں کا تسلسل برقرار رکھنے اور لاجسٹک رکاوٹوں کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بحری اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ زیادہ سہولت کار اور تجارت دوست پالیسی اپنائیں تاکہ آپریشنل تاخیر اسٹیک ہولڈرز کے لیے غیر ضروری اخراجات کا باعث نہ بنے۔
مزیدپڑھیں:25 کلو واٹ سے کم سولر سسٹمز پر فیس ، لائسنس شرط ختم کرنے کی تجویز
وفاقی وزیر نے بندرگاہوں اور ٹرمینلز کے درمیان بہتر ہم آہنگی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے لاجسٹکس کے نظام میں بہتری اور خدمات کی فراہمی مؤثر بنائی جا سکے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے ریلیف اقدامات دراصل ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد بحری شعبے کو زیادہ فعال، مسابقتی اور قومی تجارتی ترجیحات سے ہم آہنگ بنانا ہے، جبکہ مؤثر بندرگاہی آپریشنز کو معاشی استحکام، برآمدات میں اضافے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے نہایت اہم قرار دیا گیا۔












اتوار 26 اپریل 2026 