امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ(Donald Trump) نے جرمن چانسلر فریڈرک مرز کی ایران جنگ پر تنقید کا سخت الفاظ میں جواب دیتے ہوئے ایران کے خلاف جنگ کو ضروری قرار دے دیا۔
عرب میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے ایک بیان میں یورپی اور نیٹو اتحادیوں پر ایک بار پھر برہمی کا اظہار کیا ہے، جنہیں وہ اس جنگ کی مکمل حمایت یا اس میں عملی شرکت نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں ٹرمپ نے لکھا ہے کہ جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز سمجھتے ہیں کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہونا ٹھیک ہے، وہ نہیں جانتے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں، اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوا تو پوری دنیا یرغمال بن جائے گی، یہ تنازع اس لیے ناگزیر تھا تاکہ تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ میں اس وقت ایران کے معاملے پر وہ اقدام کر رہا ہوں جو دیگر ممالک یا صدور کو بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا، کوئی حیرت نہیں کہ جرمنی معاشی اور دیگر حوالوں سے اتنی خراب کارکردگی دکھا رہا ہے۔
واضح رہے کہ اگرچہ جرمنی امریکا اور اسرائیل کا قریبی اتحادی رہا ہے، تاہم فریڈرک مرز نے ایران کے خلاف جاری جنگ پر دو ٹوک مؤقف اپناتے ہوئے فوجی مہم کو غیر دانشمندانہ قرار دیا تھا۔
مزیدپڑھیں:کراچی میں منکی پاکس کا ایک اور کیس سامنے آگیا، تعداد 9 ہو گئی
جرمن چانسلر کا کہنا تھا کہ اس طرح کے تنازعات میں مسئلہ ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ آپ کو صرف داخل ہی نہیں ہونا ہوتا بلکہ باہر بھی نکلنا ہوتا ہے، ہم نے یہ بات افغانستان میں 20 سال تک بہت تکلیف دہ انداز میں دیکھی اور عراق میں بھی یہی ہوا۔
جرمن رہنما نے یہ بھی عندیہ دیا کہ ایران کی جانب سے مذاکراتی حربوں کے باعث واشنگٹن کو ذلت کا سامنا ہے، کیونکہ تہران بندرگاہوں پر ناکہ بندی ختم ہونے تک امریکی حکام سے ملاقات کے لیے نمائندے بھیجنے سے انکار کر رہا ہے۔












بدھ 29 اپریل 2026 