مقبوضہ کشمیر(IOK) کی صورتحال ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جہاں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں اور سخت سیکیورٹی اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مختلف رپورٹس اور مقامی ذرائع کے مطابق حالیہ مہینوں میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے جس کے باعث شہری زندگی متاثر ہوئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق سیکیورٹی کارروائیوں کے دوران متعدد افراد کی گرفتاریوں، گھروں کی مسماری اور طلبہ سمیت عام شہریوں کو درپیش مشکلات کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ کشمیری قیادت اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باعث عوام میں بے چینی اور خوف کی فضا پائی جاتی ہے۔
Narendra Modi کی حکومت کی پالیسیوں پر بھی تنقید سامنے آئی ہے، جہاں ناقدین کا مؤقف ہے کہ سیکیورٹی قوانین کا اطلاق بعض اوقات سیاسی سرگرمیوں اور اظہارِ رائے کو محدود کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ تاہم بھارتی حکام ان اقدامات کو دہشت گردی کے خلاف ضروری قرار دیتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:ناقابلِ تسخیر دفاع ، پاک فوج کا دشمن کو دو ٹوک پیغام
عالمی سطح پر United Nations اور دیگر انسانی حقوق کے ادارے ماضی میں بھی اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ خطے میں شہریوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور تمام فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں۔
ماہرین کے مطابق مسئلے کا پائیدار حل بات چیت، اعتماد سازی اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق اقدامات سے ہی ممکن ہے، تاکہ خطے میں دیرپا امن قائم کیا جا سکے اور عام شہریوں کی زندگی معمول پر آ سکے۔












جمعہ 1 مئی 2026 