امریکی محکمہ خزانہ United States Department of the Treasury نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایران کو کسی بھی قسم کی ادائیگی کرنے والے بحری جہازوں اور متعلقہ افراد کو سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
محکمے کے ذیلی ادارے Office of Foreign Assets Control (او ایف اے سی) کے بیان کے مطابق ایران کی جانب سے محفوظ گزرگاہ کے بدلے ادائیگیوں کے مطالبات کی اطلاعات ہیں، اور ایسی کسی بھی ادائیگی میں ملوث امریکی یا غیر امریکی افراد پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ ادائیگیاں مختلف صورتوں میں ہو سکتی ہیں، جن میں نقد رقم، ڈیجیٹل اثاثے، بارٹر سسٹم یا دیگر اشیاء کی شکل میں لین دین شامل ہے۔ یہاں تک کہ بظاہر خیراتی عطیات، جیسے Iranian Red Crescent Society، بنیاد مستضعفان یا ایرانی سفارتخانوں کے اکاؤنٹس میں دی جانے والی رقوم بھی اس دائرے میں آ سکتی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق یہ انتباہ اس لیے جاری کیا گیا ہے تاکہ عالمی سطح پر کاروباری اداروں اور جہاز رانی سے وابستہ افراد کو ممکنہ خطرات سے آگاہ کیا جا سکے، کیونکہ ادائیگی کا طریقہ کچھ بھی ہو، پابندیوں کا خطرہ برقرار رہے گا۔












جمعہ 1 مئی 2026 