ایران (Iran)نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی افواج آبنائے ہرمز(Strait of Hormuz) میں داخل ہونے یا وہاں آپریشن کرنے کی کوشش کریں گی تو انہیں نشانہ بنایا جائے گا۔
یہ بیان ایرانی فوج کی جانب سے اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو نکالنے کے لیے بحری مشن کا اعلان کیا۔
ایرانی فوج کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ کی سیکیورٹی مکمل طور پر ایران کی مسلح افواج کے ہاتھ میں ہے اور یہاں سے گزرنے والی ہر قسم کی بحری آمد و رفت کو ایرانی افواج کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے ساتھ انجام دینا ہوگا۔
بیان میں تجارتی جہازوں اور تیل بردار ٹینکرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بغیر اجازت یا رابطے کے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش نہ کریں، کیونکہ اس سے ان کی سیکیورٹی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق وہ اس آبی راستے کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔
مزیدپڑھیں:کولمبیا میں ایک مانسٹر ٹرک تماشائیوں پر چڑھ دوڑا، ہلاکتیں، متعدد زخمی
ایرانی فوج نے اپنے بیان میں خاص طور پر خبردار کیا کہ کسی بھی غیر ملکی فوجی قوت، خصوصاً امریکا کی فوج، اگر آبنائے ہرمز کے قریب آنے یا داخل ہونے کی کوشش کرے گی تو اس کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔
ماہرین کے مطابق اس بیان کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، جبکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔












پیر 4 مئی 2026 