وزیراعظم نے گلگت بلتستان کے عوام کی خوشحالی اور معاشی ترقی کے لیے شمسی توانائی منصوبے کا آج باضابطہ افتتاح کر دیا

Calender Icon جمعرات 7 مئی 2026

گلگلت(نیوز ڈیسک) وزیراعظم پاکستان (Shehbaz Sharif)نے گلگت بلتستان کے عوام کی خوشحالی اور معاشی ترقی کے لیے ایک تاریخی شمسی توانائی منصوبے کا آج باضابطہ افتتاح کر دیا ہے۔ وزیراعظم کی تشکیل کردہ اسٹیئرنگ کمیٹی کی قیادت میں وفاقی وزیر برائے پاور سردار اویس احمد خان لغاری نے اس منصوبے کو حقیقت کا روپ دیا۔ یہ منصوبہ گلگت بلتستان کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہے جو علاقے کو سستی، پائیدار، صاف اور ماحول دوست توانائی فراہم کرے گا۔

ہم قابل تجدید توانائی اور بیٹری سٹوریج جیسی نئی ٹیکنالوجیز کے فروغ میں ایڈوانس سٹیج پر پہنچ چکے ہیں کیونکہ لوگوں نے جب اس بارے سوچنا شروع کیا ہے ، اور ہم یہاں عملی منصوبوں پر عمل درآمد تک شروع کر رہے ہیں۔ بیٹری کی منصوبہ بندی کئی ماہ قبل شروع کر دی گئی تھی۔جس سے صاف ظاہر ہے کہ ہم اپنی منصوبہ بندی میں بہت آگے ہیں اور تکنیکی تبدیلیوں اور ایجادات سے سے باخبر ہیں۔

اس منصوبے کے تحت 499 عمارتوں کو روف ٹاپ سولر نظام کے ذریعے شمسی توانائی پر منتقل کیا جائے گا، جبکہ 82 میگاواٹ کے یوٹیلیٹی اسکیل شمسی منصوبے کے ذریعے تقریباً 13 لاکھ افراد کو صاف توانائی فراہم کی جائے گی۔ اس کے ساتھ بجلی کی بہتر ترسیل (ڈسپیچ) اور گرڈ کے مؤثر رابطے کے لیے مرکزی کنٹرول اور مواصلاتی نظام بھی قائم کیا جائے گا، جس سے 82 میگاواٹ شمسی توانائی اور موجودہ پن بجلی وسائل کے درمیان متوازن تقسیم ممکن ہو سکے گی اور پورے نظام کی کارکردگی بہتر بنے گی۔

دونوں حصوں میں مجموعی طور پر 66.1 میگاواٹ آور صلاحیت کا بیٹری توانائی ذخیرہ نظام فراہم کیا جائے گا، جس سے رات کے وقت بھی بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے گی۔

مزیدپڑھیںنعمان مسعود کی شہباز شریف اور مریم نواز سے اہم اپیل

مزید برآں، اس منصوبے کے تحت 58 میگاواٹ سولر پی وی پینلز بھی گھریلو صارفین، دکانوں اور چھوٹے کاروباروں میں شفاف قرعہ اندازی کے ذریعے مفت تقسیم کیے جائیں گے، جس سے عام لوگوں کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔

یہ منصوبہ نہ صرف بجلی کے مسائل کے حل میں مدد دے گا بلکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گا، کاروبار کو فروغ دے گا اور عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنائے گا۔ خوشحال گلگت بلتستان ہی خوشحال پاکستان کی بنیاد ہے۔

منصوبے کے اہم نکات:

🌟 100 میگاواٹ شمسی توانائی — صاف اور سستی بجلی
🌟 499 عمارتوں کی سولرائزیشن — عوامی سہولیات میں بہتری
🌟 13 لاکھ افراد مستفید — وسیع سماجی و معاشی اثرات
🌟 66.1 میگاواٹ آور بیٹری سسٹم — رات کو بھی بجلی کی فراہمی
🌟 52 پن بجلی گھروں کے ساتھ انضمام — وسائل کا مؤثر استعمال
🌟 مرکزی کنٹرول و مواصلاتی نظام — بہتر ڈسپیچ اور گرڈ ہم آہنگی
🌟 58 میگاواٹ سولر پینلز کی مفت تقسیم — عوام کو براہِ راست فائدہ

حکومت پاکستان قابل تجدید توانائی کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے، اور یہ منصوبہ اس عزم کی عملی مثال ہے۔ روف ٹاپ سولر منصوبہ دسمبر 2026 تک جبکہ یوٹیلیٹی اسکیل شمسی کلسٹرز دسمبر 2027 تک مکمل کر لیے جائیں گے۔

ماضی میں گلگت بلتستان کو نظر انداز کیا گیا، مگر وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں موجودہ حکومت نے ثابت کیا ہے کہ وہ عوامی خدمت، علاقائی مساوات اور صاف توانائی کے فروغ کے لیے سنجیدہ اور پُرعزم ہے۔