مغربی کنارے میں کشیدگی: اسرائیلی آبادکاروں کی دھمکی پر فلسطینی خاندان مجبورِ نقلِ تدفین

Calender Icon ہفتہ 9 مئی 2026

مقبوضہ مغربی کنارہ (Occupied West Bank) میں ایک افسوسناک واقعے کے بعد فلسطینی خاندان کو اپنے ہی والد کی قبر کھود کر میت دوسری جگہ منتقل کرنا پڑی، جس کی وجہ اسرائیلی آبادکاروں کی مبینہ دھمکیاں بتائی جا رہی ہیں۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ 80 سالہ حسین اساسہ کو ان کے گاؤں کے قبرستان میں دفن کیا گیا تھا، تاہم کچھ ہی دیر بعد علاقے میں موجود اسرائیلی آبادکار قبر پر پہنچ گئے اور اسے دوبارہ کھودنے کی دھمکیاں دینے لگے۔

متوفی کے بیٹے محمد اساسہ کے مطابق آبادکاروں نے دعویٰ کیا کہ زمین ان کی آبادکاری کے لیے مختص ہے اور وہاں تدفین کی اجازت نہیں، جبکہ خاندان نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ گاؤں کا پرانا قبرستان ہے۔

مزید پڑھیں؛غیر ملکی جریدہ: پاکستان عالمی سیاست میں “مڈل پاور” کے طور پر ابھر رہا ہے

خاندان کا کہنا ہے کہ کشیدگی اور بلڈوزر سے قبر کھودنے کی دھمکیوں کے بعد وہ مجبور ہو گئے کہ اپنے پیارے کی میت نکال کر اسے دوسرے قبرستان میں دوبارہ دفن کریں۔

اس واقعے پر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے انتہائی افسوسناک قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ صورتحال فلسطینیوں کی انسانی وقار کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔

بین الاقوامی قوانین کے تحت مغربی کنارے میں آبادکاریوں کو زیادہ تر ممالک غیر قانونی تصور کرتے ہیں، جبکہ یہ خطہ فلسطینیوں کی مجوزہ ریاست کا حصہ سمجھا جاتا ہے، تاہم زمینی صورتحال مسلسل کشیدہ اور تنازع کا شکار ہے۔