روسی صدر ولادی میر پیوٹن(Vladimir Putin) نے یوکرین جنگ کے خاتمے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری تنازع اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
ماسکو میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے روسی صدر نے کہا کہ یوکرین کے معاملے پر مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے پر وہ امریکا کے شکر گزار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب یہ مسئلہ بنیادی طور پر روس اور یوکرین کے درمیان رہ گیا ہے اور دونوں ممالک کو مل کر اس کا قابل قبول حل تلاش کرنا ہوگا۔

ولادی میر پیوٹن نے کہا کہ اگر امن معاہدے کی راہ ہموار ہوتی ہے تو وہ کسی تیسرے ملک میں یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی سے ملاقات کے لیے تیار ہیں۔
روسی صدر کے مطابق انہیں چیکو سلوواکیہ کے وزیراعظم کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ یوکرینی صدر مذاکرات اور ملاقات پر آمادہ ہیں، جس کے بعد سفارتی سطح پر نئی پیش رفت کی امید پیدا ہوئی ہے۔
مزیدپڑھیں:اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں بارش کاامکان
انہوں نے اپنے بیان میں ایران سے متعلق جاری کشیدگی کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنازع بھی جلد ختم ہو جانا چاہیے کیونکہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی امن اور استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق روسی صدر کے حالیہ بیانات کو یوکرین جنگ کے حوالے سے ایک اہم سفارتی اشارہ تصور کیا جا رہا ہے، جبکہ عالمی برادری بھی ممکنہ جنگ بندی اور امن مذاکرات کی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔














اتوار 10 مئی 2026 