ملک میں الیکٹرک گاڑیوں(Electric Cars) کی فروخت میں جاری مالی سال کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پاکستان آٹومینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق پہلے 10 ماہ میں ملک بھر میں الیکٹرک گاڑیوں کی 293 یونٹس فروخت ہوئیں، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 122 فیصد زیادہ ہیں۔
گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں صرف 132 یونٹس فروخت ہوئے تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی مارکیٹ میں بتدریج وسعت آ رہی ہے، اگرچہ مجموعی حجم ابھی بھی محدود ہے۔
اپریل میں سالانہ بنیاد پر بڑا اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق اپریل کے مہینے میں ملک میں 30 الیکٹرک گاڑیاں فروخت ہوئیں، جو گزشتہ سال اپریل کے مقابلے میں 100 فیصد اضافہ ہے۔ گزشتہ سال اپریل میں صرف 15 یونٹس فروخت ہوئے تھے۔
یہ اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کے بارے میں آگاہی اور دلچسپی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور پر شہری علاقوں میں جہاں ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور ماحولیات سے متعلق خدشات اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر فروخت میں کمی بھی سامنے آگئی
اگرچہ سالانہ بنیاد پر صورتحال بہتر رہی، لیکن ماہانہ بنیاد پر اپریل میں فروخت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اپریل میں فروخت مارچ کے مقابلے میں 43 فیصد کم رہی۔
مزیدپڑھیں:شی جن پنگ نے چین اور امریکا کو دنیا کی دو بڑی طاقتیں قرار دے دیا
مارچ میں الیکٹرک گاڑیوں کی 53 یونٹس فروخت ہوئی تھیں، جو اپریل میں کم ہو کر 30 یونٹس رہ گئیں۔
مارکیٹ کا مجموعی رجحان
ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی مارکیٹ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، تاہم حکومت کی پالیسیوں، چارجنگ انفراسٹرکچر کی بہتری اور درآمدی اخراجات میں ممکنہ تبدیلیوں کے ساتھ آنے والے برسوں میں اس شعبے میں مزید تیزی آسکتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سہولیات میں اضافہ ہوا تو الیکٹرک گاڑیاں عام صارفین کے لیے زیادہ قابلِ رسائی ہو سکتی ہیں، جس سے فروخت کے اعداد و شمار میں بڑا اضافہ ممکن ہے۔












جمعرات 14 مئی 2026 