افغان عوام (Afghan Peoples)پر بھوک اور مایوسی مسلط کرنے والی طالبان رجیم کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو گیا۔
طالبان رجیم کے دور میں بڑھتے ہوئے معاشی بحران، شدید غربت اور غذائی قلت نے افغان شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔
قحط سالی سے متاثرہ افغانستان میں معصوم بچوں کو قرض اور روٹی کے عوض فروخت کیے جانے کے افسوسناک واقعات سامنے آنے لگے ہیں، جس پر انسانیت بھی سسک اٹھی ہے۔
معروف برطانوی جریدے BBC کے مطابق طالبان رجیم میں غریب افغان عوام دو وقت کی روٹی کے حصول کے لیے اپنے بچوں کا سودا کرنے پر مجبور ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان میں ہر چار میں سے تین افراد اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں، جبکہ لاکھوں شہری شدید انسانی بحران کا شکار ہیں۔
طالبان رجیم کے دوران نوجوانوں میں بے روزگاری خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، صحت کا نظام تباہ حالی کا شکار ہے اور 47 لاکھ سے زائد افغان شہری قحط کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
مزیدپڑھیں:رشوت خوری، بدعنوانی اور سنگین جرائم میں پیش پیش بھارتی فوج کا گھناؤنا کردار بے نقاب
افغانستان کے سرکاری اسپتالوں میں ادویات نایاب ہو چکی ہیں جبکہ طبی سہولیات کی کمی نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق طالبان کی ہٹ دھرمی، جابرانہ پالیسیوں اور ناقص حکمرانی نے افغانستان کو بھوک، تباہی اور عالمی تنہائی کی طرف دھکیل دیا ہے۔
طالبان رجیم کی بدانتظامی اور معاشی ناکامیوں کی قیمت افغان عوام بھوک، غربت اور بے روزگاری کی صورت میں ادا کر رہے ہیں۔
طالبان رجیم اپنی ناقص کارکردگی اور دہشتگردی میں مبینہ ملوث ہونے کے باعث ہر گزرتے دن کے ساتھ افغانستان کو مزید تباہی اور بدحالی کی جانب لے جا رہی ہے۔












جمعرات 21 مئی 2026 