اسلام آباد: ممتاز فلسطینی اسکالر اور استنبول میں سینٹر فار اسلامک اینڈ گلوبل افیئرز (CIGA) کے ڈائریکٹر پروفیسر سامی العریان (samai alariyan)نے کہا ہے کہ پاکستان فلسطینی عوام کے لیے طاقت کا سرچشمہ ہے کیونکہ یہ ایک ایٹمی مسلم ریاست ہے جو اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتی اور اسرائیل بھی پاکستان کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔
فلسطینی عوام دنیا کے تمام فورمز بشمول اقوام متحدہ میں اپنی آواز بلند کرنے پر پاکستان کے شکر گزار ہیں۔انہوں نے یہ بات ’’ابھرتا ہوا مشرقِ وسطیٰ اور صہیونی۔ہندوتوا گٹھ جوڑ‘‘ کے موضوع پر اپنے خصوصی لیکچر میں کہی، جس کا اہتمام انٹرنیشنل پارلیمنٹرینز کانگریس (IPC) نے پاکستان افریقہ انسٹیٹیوٹ فار ڈیولپمنٹ اینڈ ریسرچ (PAIDAR) کے تعاون سے اسلام آباد میں کیا۔سینیٹر ستارہ ایاز، سیکریٹری جنرل آئی پی یو اور سینیٹر مشاہد حسین سید، صدر PAIDAR، نے مشترکہ طور پر اس لیکچر کی میزبانی کی اور موضوع پر اپنے قیمتی خیالات کا اظہار بھی کیا۔
معروف صحافی حامد میر نے بھی مسئلہ فلسطین اور اس مقصد کے لیے پاکستان کے کردار، خصوصاً قائداعظم محمد علی جناح اور فلسطین کے گرینڈ مفتی مفتی امین الحسینی کے قریبی تعلقات پر اپنے خیالات پیش کیے۔لیکچر کی نظامت کرتے ہوئے سینیٹر مشاہد حسین نے مسئلہ فلسطین کی تاریخی حقائق اور پاکستان کی قومی پالیسی ’’کشمیر ہماری شہ رگ ہے‘‘ اور ’’اسرائیل ناقابلِ قبول ہے کیونکہ یہ ایک ناجائز ریاست ہے‘‘ پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے حوالے سے پاکستان کی قومی پالیسی قیامِ پاکستان سے بھی قبل بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے تشکیل دی تھی۔مشاہد حسین نے بتایا کہ پاکستان کے گورنر جنرل قائداعظم محمد علی جناح نے 13 دسمبر 1947 کو اُس وقت کے امریکی صدر ہیری ٹرومین کو دنیا کے کسی بھی رہنما کے نام پہلا خط لکھا تھا، جس میں اسرائیلی ریاست کی غیر قانونی حیثیت کا ذکر کیا گیا تھا۔
صدر PAIDAR نے شرکاء کو فلسطین۔اسرائیل تنازع میں پاکستان کے منفرد اور خصوصی کردار سے آگاہ کیا، جو پان اسلامک یکجہتی پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان واحد غیر عرب ملک ہے جس نے اسرائیل کے خلاف دو جنگیں لڑیں اور متعدد اسرائیلی جنگی طیارے مار گرائے۔
مزید پڑھیں:مالیاتی ادارے آئندہ ہفتے صرف 25 مئی اور 29 مئی کو کھلیں گے، اسٹیٹ بینک
انہوں نے تفصیل بتائی کہ جون 1967 میں پاک فضائیہ کے پائلٹس نے اردن اور عراق کے طیارے اڑائے، جبکہ اکتوبر 1973 میں پاکستانی پائلٹس نے شام اور مصر کی جانب سے عرب۔اسرائیل جنگ میں حصہ لیا۔انہوں نے فلسطین اور کشمیر کے مسائل کا تقابلی جائزہ پیش کیا اور مقبوضہ کشمیر سے حریت رہنماؤں غلام محمد صفی اور حمید لون کی لیکچر میں شرکت کا خیر مقدم کیا۔












جمعرات 21 مئی 2026 