اسلام آباد،پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام (government audit officials)نے بتایا کہ نیسپاک نے نیلم جہلم منصوبے میں تکنیکی خامیاں اور ناقص نگرانی کی۔ نیلم جہلم پاور پلانٹ سرنگ گرنے کے باعث جولائی 2022 میں بند ہوا۔
آڈیٹر جنرل حکام کا کہنا تھا کہ نیلم جہلم ٹنل میں مئی 2024 میں دوبارہ حادثہ پیش آیا، منصوبے کی بندش سے بجلی پیداوار میں اربوں روپے کا نقصان ہوا۔
حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ نیسپاک جوائنٹ وینچر منصوبے کے ڈیزائن سے تعمیراتی نگرانی تک تمام مراحل میں شامل رہی۔ بحالی اور بجلی کی پیداوار بند ہونے سے مجموعی نقصان 42 ارب 93 کروڑ 40 لاکھ روپے تک پہنچ گیا۔
مزید پڑھیں:عیدالاضحیٰ تعطیلات، مری کے سیاحتی مقام پر21 مئی سے دفعہ 144 نافذ، نوٹیفکیشن جاری
سیکریٹری کابینہ ڈویژن کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر وفاقی حکومت انکوائری کر رہی ہے، سابق سیکریٹری داخلہ شاہدعلی کی سربراہی میں کمیٹی انکوائری کر رہی ہے۔












جمعرات 21 مئی 2026 