IMF شرائط، حکومت مالیاتی ڈسپلن برقرار رکھنے پر مجبورہے، معاشی ماہرین

Calender Icon جمعہ 29 مئی 2026

اسلام آباد،وفاقی بجٹ جمعہ 5 جون 2026 کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ معاشی ماہرین(economic experts) کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے سخت پروگرام کے باعث حکومت اس بار مالیاتی ڈسپلن برقرار رکھنے پر مجبور ہے۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق اسٹاک مارکیٹ پر بجٹ کے اثرات مجموعی طور پر ملے جلے رہیں گے۔ حکومت ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لیے سخت اقدامات کر رہی ہے، بلند شرحِ سود اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے تناظر میں حکومت اس بجٹ کے ذریعے ملکی معیشت کو کس سمت میں لے کر جاتی ہے اور آئی ایم ایف کے اہداف کو کس حد تک پورا کر پاتی ہے۔

وفاق بجٹ پیش کیے جانے کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں۔ پاکستان کے گزشتہ چار سالوں کے بجٹ کا جائزہ لیں، تو معاشی محور مسلسل پرائمری سرپلس یعنی سود کی ادائیگی نکال کر اخراجات کو آمدنی سے کم رکھنے اور مالیاتی خسارے کو قابو میں رکھنے پر ہے۔ آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے باعث اس بار بھی بجٹ کا بنیادی مقصد ٹیکس نیٹ کو بڑھانا اور معاشی استحکام برقرار رکھنا ہے۔

ٹاپ لائن کی رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف نے حکومت کے لیے 15 ہزار 300 ارب روپے کا بڑا ٹیکس ہدف مقرر کیا ہے، جو گزشتہ سال سے 14 فیصد زیادہ ہے۔ اس ہدف کو پورا کرنے کے لیے زراعت پر ٹیکس بڑھانے اور سروسز پر جی ایس ٹی کا دائرہ وسیع کرنے کی تجاویز زیرِ غور ہیں۔

معاشی ماہرین کے مطابق اگر عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں مستحکم رہیں تو ملک کی جی ڈی پی گروتھ تین سے ساڑھے تین فیصد تک رہ سکتی ہے۔

مزید پڑھیں:صدر ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان

بجٹ حکومت کے لیے امتحان ہوگا کہ وہ آئی ایم ایف کی شرائط اور عوامی ریلیف کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھتی ہے۔