اسرائیلی فوج (Israeli army) کے جنوبی لبنان میں 2006 کے بعد پہلی بار دریائے لیتانی سے آگے بڑھنے اور اہم شہر نباتیہ کے قریب پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
لبنانی عسکری ذرائع کے مطابق اسرائیلی افواج نے دریائے لیتانی عبور کر لیا ہے، جسے اسرائیل غیر رسمی بفر زون کا حصہ سمجھتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی دستے اس وقت نباتیہ کے مضافاتی علاقوں میں موجود ہیں اور شہر کو گھیرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
نباتیہ جنوبی لبنان کا ایک اہم شہر ہے جو نہ صرف خطے کی معیشت بلکہ ثقافتی حوالے سے بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اسے لبنان میں مزاحمتی تحریک کی علامت کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج اپنی فضائی کارروائیوں میں بھی اضافہ کر رہی ہے اور شہر کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے، جس کا مقصد مبینہ طور پر حزب اللہ کے دفاعی نیٹ ورک کو کمزور کرنا بتایا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں؛اسرائیل کا جنوبی لبنان سے انخلا کا مطالبہ مسترد، مذاکرات تعطل کا شکار
اسی دوران اسرائیلی فوج کے عربی زبان کے ترجمان نے جنوبی لبنان کے متعدد دیہات کے رہائشیوں کو انخلا کی ہدایت جاری کی ہے، اور خبردار کیا ہے کہ ان علاقوں میں موجود رہنے والے افراد کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
لبنانی حکام کے مطابق اس صورتحال کے باعث بڑے پیمانے پر نقل مکانی جاری ہے، جس میں ہزاروں افراد محفوظ مقامات یا عارضی کیمپوں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ بعض خاندان طویل عرصے سے عارضی طور پر گاڑیوں یا عوامی مقامات پر رہنے پر مجبور ہیں۔
دوسری جانب لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکی ثالثی میں جنگ بندی اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے بات چیت بھی جاری ہے، تاہم زمینی صورتحال نے ان مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
لبنانی صدر اور اعلیٰ حکام نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ جنگ بندی پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور انسانی بحران کو مزید بڑھنے سے روکا جائے۔












ہفتہ 30 مئی 2026 