ترکیہ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت فلسطینی ریاست سے مشروط کر دی

Calender Icon اتوار 31 مئی 2026

ترکیہ نے بھی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کے لیے واضح شرط عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر کسی بھی علاقائی معاہدے میں پیش رفت ممکن نہیں۔

ترک وزیر خارجہ Hakan Fidan نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کا بنیادی نکتہ مسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر اسرائیل 1967 کی سرحدوں کے مطابق فلسطینی ریاست کو تسلیم کرتا ہے تو ترکیہ علاقائی اتحاد اور تعاون کے کسی بھی فریم ورک کا حصہ بننے پر غور کر سکتا ہے۔

حاقان فیدان نے مزید تجویز دی کہ پاکستان، سعودی عرب، مصر اور خلیجی ممالک پر مشتمل ایک مشترکہ علاقائی پلیٹ فارم تشکیل دیا جائے، جس میں حالات معمول پر آنے کی صورت میں ایران کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خطے کے تمام ممالک کو ایک دوسرے کی خودمختاری اور سلامتی کا احترام کرنا ہوگا تاکہ دیرپا استحکام ممکن ہو سکے۔

مزیدپڑھیں:ایران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی یقین دہانی کرائی: امریکی صدر

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ کی جانب سے مسلم اکثریتی ممالک پر ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کے لیے دباؤ بڑھایا جا رہا ہے، جس کا مقصد اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا بتایا جاتا ہے۔

دوسری جانب سعودی عرب بھی اپنے مؤقف پر قائم ہے کہ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی فلسطینی ریاست کے قیام سے مشروط ہے۔