پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان بجٹ مذاکرات مکمل

Calender Icon اتوار 31 مئی 2026

پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(IMF) کے درمیان بجٹ مذاکرات مکمل ہونے کے بعد آئندہ مالی سال کے مالی ڈھانچے پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

ذرائع کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان زیادہ تر اہداف اور پالیسی فریم ورک پر اتفاق رائے ہو چکا ہے، جبکہ چند ٹیکنیکل امور پر حتمی مشاورت جاری ہے۔

محصولات کے اہداف میں بڑی تبدیلی

حکومتی ذرائع کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے سالانہ ٹیکس ہدف میں نمایاں کمی پر اتفاق ہوا ہے۔ موجودہ مالی سال کے دوران دوسرا بڑا نظرثانی شدہ ہدف سامنے آیا ہے جس کے بعد مجموعی ٹیکس وصولی کا ہدف کم ہو گیا ہے۔ اس اقدام کو ریونیو کلیکشن میں حقیقت پسندانہ حکمت عملی کی طرف قدم قرار دیا جا رہا ہے، تاکہ اہداف اور وصولی کے درمیان فرق کم کیا جا سکے۔

آئندہ بجٹ کا حجم اور آمدنی کا ڈھانچہ

آئندہ مالی سال کے بجٹ کا مجموعی حجم تقریباً اٹھارہ ہزار ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس میں مجموعی ٹیکس ہدف پندرہ ہزار ارب سے زائد رہنے کی توقع ہے۔ براہ راست ٹیکسز، بالواسطہ ٹیکسز اور دیگر ذرائع آمدن کو ملا کر حکومت ایک متوازن مالی منصوبہ تشکیل دینے کی کوشش کر رہی ہے۔

مزیدپڑھیں:آئندہ بجٹ میں سولر سسٹم مزید مہنگا ہونے کا امکان، ٹیکس بڑھانے کی تجویز زیر غور

مختلف ٹیکس شعبوں سے آمدن کی توقع

ذرائع کے مطابق سیلز ٹیکس، ایکسائز ڈیوٹی اور کسٹمز ڈیوٹی سے اربوں روپے کی وصولی کا ہدف مقرر کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح پیٹرولیم لیوی میں بھی اضافہ متوقع ہے جو مجموعی ریونیو میں اہم کردار ادا کرے گا۔ نان ٹیکس آمدنی کے ذریعے بھی خطیر رقم حاصل کرنے کا منصوبہ شامل ہے۔

قرضوں اور سود کی ادائیگی کا بوجھ

سرکاری مالی منصوبے میں سب سے بڑا حصہ قرضوں اور سود کی ادائیگیوں کا ہوگا۔ اندازوں کے مطابق ہزاروں ارب روپے صرف ان ادائیگیوں پر خرچ ہوں گے۔ اس میں مقامی اور غیر ملکی قرضوں دونوں کی واپسی شامل ہے، جو بجٹ کے مجموعی ڈھانچے پر نمایاں دباؤ ڈالتی ہے۔

ممکنہ نئے ٹیکس اقدامات

آئندہ بجٹ میں مزید ٹیکس اقدامات بھی زیر غور ہیں جن کا مقصد ریونیو بڑھانا ہے۔ اس کے ساتھ تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس سلیبز میں تبدیلی کی تجویز بھی سامنے آئی ہے تاکہ نظام کو زیادہ مؤثر اور متوازن بنایا جا سکے۔