ایران، اقتدار کے ایوانوں میں شدید ہلچل، صدر نے استعفٰی سپریم لیڈر کو بھجوا دیا؟

Calender Icon اتوار 31 مئی 2026

تہران، ایران کے سیاسی حلقوں میں اس وقت ہلچل مچ گئی ہے جب غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایرانی صدر(Iranian president) مسعود پزشکیان نے اپنا استعفٰی سپریم لیڈر کے دفتر کو بھجوا دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق صدر پزشکیان نے اپنے استعفٰی میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ حکومت اور صدر کو ملک کے اہم اور بنیادی فیصلوں کے عمل سے عملاً الگ کر دیا گیا ہے۔

جس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خلا سے سخت گیر عناصر اور پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے بعض حلقوں کا اثر و رسوخ بڑھ گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی صدر نے خط میں لکھا ہے کہ موجودہ حالات میں ان کے لیے آئینی اور قانونی ذمہ داریاں ادا کرنا ممکن نہیں رہا، اسی لیے انہوں نے فوری طور پر عہدہ چھوڑنے کی درخواست کی ہے۔

تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ سپریم لیڈر کے دفتر کی جانب سے استعفٰی منظور کیا جائے گا یا نہیں، تاہم مبینہ خط کے مندرجات ایران کی اعلیٰ قیادت کے درمیان گہرے اختلافات کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ کئی ماہ سے ایرانی حکومت اور عسکری و سیکیورٹی اداروں کے درمیان اختیارات کے معاملے پر کشیدگی جاری تھی۔پاسدارانِ انقلاب بتدریج صدارتی اختیارات محدود کرتے ہوئے حکومتی معاملات میں زیادہ فعال کردار ادا کر رہی تھی۔

اطلاعات کے مطابق اس صورتحال نے صدر پزشکیان کی حکومت کو سیاسی اور انتظامی تعطل کا شکار بنا دیا، جس کے باعث نہ صرف سفارتی کوششیں متاثر ہوئیں بلکہ کابینہ میں متوقع اصلاحات اور تبدیلیوں کا عمل بھی آگے نہ بڑھ سکا۔

مزید پڑھیں:سال بھر میں 40 ہزار مسافروں کو آف لوڈ کیا، اے ڈی جی نعمان صدیقی

’’’یہ دعویٰ غیر ملکی میڈیا رپورٹ میں سامنے آیا ہے، جس کی ایرانی حکام کی جانب سے تاحال باضابطہ تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔‘‘‘