نئے بجٹ سے قبل گوہر اعجاز کا شیڈو بجٹ حکومت کو پیش

Calender Icon پیر 1 جون 2026

نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ(Federal Budget) کی پیشکش میں چند روز باقی رہ گئے ہیں، جبکہ معاشی حلقوں اور کاروباری برادری کی جانب سے مختلف بجٹ تجاویز سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں۔

اس سلسلے میں سابق نگران وزیر اور چیئرمین اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈیولپمنٹ گوہر اعجاز نے حکومت کو ایک جامع “شیڈو بجٹ” پیش کیا ہے اور اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈیولپمنٹ کی جانب سے پیش کردہ تجاویز میں ٹیکس نظام میں بڑی اصلاحات کی سفارش کی گئی ہے۔ ان میں انکم ٹیکس کی زیادہ سے زیادہ شرح 35 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کرنے، کارپوریٹ ٹیکس 29 فیصد سے کم کر کے 25 فیصد کرنے، اور آئندہ تین سالوں میں سیلز ٹیکس کو 18 فیصد سے کم کر کے 15 فیصد تک لانے کی تجویز شامل ہے۔

تجاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ٹیکس نیٹ کو مؤثر بنانے کے لیے نان فائلرز کی کٹیگری ختم کی جائے تاکہ نظام کو سادہ اور شفاف بنایا جا سکے۔ اسی طرح وفاقی ریونیو بورڈ (ایف بی آر) کا ٹیکس ہدف 14 ہزار 500 ارب روپے مقرر کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

شیڈو بجٹ میں حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی کی تجویز دیتے ہوئے انہیں 3 سے 4 ٹریلین روپے تک محدود کرنے کا کہا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مہنگے قرضوں کی واپسی، نئے سرکاری اداروں کے قیام پر پابندی، اور غیر فعال اداروں کو صوبوں کے حوالے کرنے کی سفارش بھی شامل ہے۔

مزیدپڑھیں:بھارتی گلوکارہ سمن کلیان پور 89 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں

مزید یہ کہ سنگل ٹریژری اکاؤنٹس کے دائرہ کار کو وسیع کرنے اور سرکاری فنڈز کو کمرشل بینکوں میں رکھنے سے روکنے کی تجویز دی گئی ہے۔ دستاویز میں قومی مالیاتی نظام میں اصلاحات کے لیے قومی اقتصادی کونسل اور مشترکہ مفادات کونسل کو فعال بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

گوہر اعجاز نے اپنے بیان میں کہا کہ پیش کردہ شیڈو بجٹ کے اعداد و شمار حقائق پر مبنی ہیں، اور اگر حکومت یا کسی ادارے کو ان پر اعتراض ہے تو انہیں کھلے طور پر چیلنج کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ تاجر برادری غیر مشاورتی فیصلوں کو قبول نہیں کرے گی، اس لیے ان تجاویز کو سنجیدگی سے زیر غور لایا جانا چاہیے۔

معاشی ماہرین کے مطابق یہ تجاویز بجٹ بحث میں مزید شدت پیدا کر سکتی ہیں، تاہم حتمی فیصلہ وفاقی بجٹ کی منظوری کے بعد ہی سامنے آئے گا۔