للت مودی نے سشمیتا سین پر لگے ’گولڈ ڈگر‘ الزامات مسترد کر دیے

Calender Icon منگل 2 جون 2026

انڈین پریمیئر لیگ (IPL) کے سابق چیئرمین للت مودی نے بالی ووڈ اداکارہ سشمیتا سین کے خلاف ماضی میں لگائے جانے والے ’گولڈ ڈگر‘ کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان الزامات میں کوئی صداقت نہیں تھی اور اداکارہ کو غیر ضروری تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

ایک حالیہ انٹرویو میں للت مودی نے 2022 میں اپنے اور سشمیتا سین کے تعلقات کے منظر عام پر آنے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت سوشل میڈیا پر سشمیتا سین کے بارے میں مختلف قسم کی منفی باتیں کی گئیں اور انہیں مالی مفادات حاصل کرنے والی خاتون کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Pinkvilla (@pinkvilla)

للت مودی کے مطابق سشمیتا سین ایک خودمختار، بااعتماد اور مالی طور پر مستحکم خاتون ہیں جنہوں نے اپنی زندگی میں جو مقام حاصل کیا، وہ اپنی محنت، صلاحیت اور لگن کی بدولت حاصل کیا۔ انہوں نے کہا کہ سشمیتا سین کو کسی بھی طرح دولت یا مالی فائدے سے جوڑنا ناانصافی اور حقیقت کے منافی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سشمیتا سین اکثر اپنے اخراجات خود برداشت کرنے پر اصرار کرتی تھیں، جس سے ان کی خودداری اور خود انحصاری کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اداکارہ ہمیشہ اپنے اصولوں پر قائم رہیں اور انہوں نے کبھی کسی پر مالی انحصار نہیں کیا۔

مزیدپڑھیں:وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا

سابق آئی پی ایل چیئرمین نے سشمیتا سین کی شخصیت کی تعریف کرتے ہوئے انہیں ایک مضبوط اور باوقار خاتون قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سشمیتا سین نے نہ صرف شوبز انڈسٹری میں اپنی الگ شناخت بنائی بلکہ اپنی ذاتی زندگی میں بھی ہمیشہ وقار اور اعتماد کا مظاہرہ کیا۔

للت مودی نے اداکارہ کو ’’حقیقی ہیرا‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بارے میں منفی تاثر پیدا کرنا اور ان کے کردار پر سوال اٹھانا مناسب نہیں۔ ان کے مطابق سشمیتا سین ہمیشہ عزت، وقار اور خودمختاری کے ساتھ زندگی گزارتی رہی ہیں اور وہ ان الزامات کی مستحق نہیں تھیں جو ان پر عائد کیے گئے۔

واضح رہے کہ 2022 میں للت مودی اور سشمیتا سین کے تعلقات کی خبریں منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید بحث چھڑ گئی تھی، جس کے دوران اداکارہ کو مختلف تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔