پاکستان کا فی کس قرضہ 3 لاکھ 33 ہزار روپے تک جا پہنچا

Calender Icon جمعرات 4 جون 2026

پاکستان (Pakistan)میں بڑھتے ہوئے عوامی قرضے نے معاشی ماہرین کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، اور تازہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق فی کس قرضہ گزشتہ مالی سال کے دوران 13 فیصد اضافے کے بعد 3 لاکھ 33 ہزار روپے تک پہنچ گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ملک کا مجموعی عوامی قرضہ 80.5 کھرب روپے سے تجاوز کر چکا ہے، جبکہ گزشتہ سال یہ رقم 89 ہزار 774 ارب روپے تھی۔ اس طرح صرف ایک سال کے دوران قرضوں میں 7 ہزار 533 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو ملکی معیشت پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی واضح علامت ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کا مجموعی قرضہ اب مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً 70 سے 76 فیصد کے درمیان پہنچ چکا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق یہ تناسب اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک کی آمدنی کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی اور مالیاتی دباؤ کی نذر ہو رہا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہر پاکستانی شہری پر اوسطاً قرضے کا بوجھ بڑھ کر 3 لاکھ 33 ہزار روپے تک جا پہنچا ہے، جبکہ ایک سال کے دوران فی کس قرضے میں تقریباً 39 ہزار روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ عوامی سطح پر معاشی دباؤ میں مزید شدت کا باعث بن رہا ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں بڑھتے ہوئے قرضے نہ صرف مالیاتی نظم و ضبط کے لیے خطرہ ہیں بلکہ ترقیاتی منصوبوں، سماجی شعبوں اور حکومتی اخراجات پر بھی براہ راست اثر ڈال رہے ہیں۔

مزیدپڑھیں:آصف زرداری سے غوث بخش مہر اور شہریار مہر کی ملاقات،سندھ کی سیاسی صورتحال پر گفتگو

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی مجموعی معیشت (جی ڈی پی) تقریباً 127 ہزار ارب روپے کے قریب ہے، جبکہ قرضوں کا حجم مسلسل بڑھ کر معیشت کے بڑے حصے پر حاوی ہو چکا ہے۔ ماہرین اسے ایک ایسے معاشی ڈھانچے سے تشبیہ دیتے ہیں جس میں آمدنی کے مقابلے میں قرضوں کا بوجھ تیزی سے بڑھ رہا ہو۔

معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر قرضوں میں اضافے کا یہی رجحان برقرار رہا تو آئندہ برسوں میں حکومت کو بجٹ خسارے، ترقیاتی اخراجات میں کمی اور مالیاتی پالیسیوں میں مزید سخت فیصلوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔