اسلام آباد، نور مقدم کے والد شوکت مقدم (shokat muqadam)کا کہنا ہے کہ صدر سے اپیل کروں گا کہ ظاہر جعفر کی رحم کی اپیل مسترد کریں، صدر مملکت کی اپنی بھی دو بیٹیاں ہیں۔
سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شوکت مقدم نے کہا کہ سزا پر عملدرآمد ہونا چاہیے، ٹرائل کورٹ سے سپریم کورٹ تک میڈیا نے ہمارا بہت ساتھ دیا، میڈیا کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔
شوکت مقدم نے مزید کہا کہ بیٹیوں اور بچیوں کو یہی پیغام دوں گا کہ ظلم کے خلاف آواز بلند کریں۔
پولیس کے مطابق ملزم کے والدین نے پولیس کو اطلاع دینے کی بجائے تھراپی ورکس سے رابطہ کیا، تھراپی ورکس کی ٹیم جائے وقوع پر پہنچی تو ملزم ظاہر جعفر نے مبینہ طور پر تھراپی ورکس کے ملازم امجد کو چاقو کے وار کر کے زخمی کر دیا، پولیس کے پہنچنے تک نور مقدم کا قتل ہو چکا تھا اور مقتولہ کی سربریدہ لاش وہاں موجود تھی۔
نور مقدم کیسے قتل ہوئی ؟ CCTV ٹرانسکرپٹ میں دل دہلا دینے والے مناظر کا ذکر۔پولیس نے ملزم کو خون آلودہ قمیض میں گرفتار کر کے جائے وقوع سے آلۂ قتل بھی برآمد کیا۔
شواہد چھپانے اور جرم میں معاونت کے الزام میں پولیس نے قتل کے 5 روز بعد 25 جولائی کو ظاہر جعفر کے والدین ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی سمیت دیگر ملزمان کو بھی گرفتار کر لیا۔
واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں نورمقدم کو پہلی منزل سے چھلانگ لگا کر زخمی حالت میں گھر سے نکلنے کی کوشش کرتے اور ظاہر جعفر کو دست درازی کرتے دیکھا گیا۔
فوٹیج میں ملزم کے ملازمین بھی نظر آئے جنہوں نے کسی موقع پر ملزم کو روکنے یا نور مقدم کو بچانے کی کوشش نہیں کی۔کیس کا باقاعدہ ٹرائل 20 اکتوبر 2021ء سے شروع ہوا اور 25 سماعتوں پر مشتمل رہا۔
نور مقدم قتل کیس کا اسپیڈی ٹرائل 4 ماہ 8 دن جاری رہا،جس کے دوران 19 گواہان کے بیانات قلم بند ہوئے۔ پہلی پیشی سے ہی ملزم کبھی پولیس اور کبھی عدالت کے جج سے الجھتا اور کمرۂ عدالت میں عجیب و غریب حرکتیں کرتا رہا۔
مزید پڑھیں:وزیراعظم، ٹیکس کولیکشن آٹومیٹڈ سسٹم پائلٹ کی وفاق سے اجرا کی ہدایت
دورانِ سماعت مرکزی ملزم نے خود کو ذہنی مریض ثابت کرنے کے لیے ہر حربہ آزمایا، پولیس بھی ملزم کو کبھی اسٹریچر تو کبھی وہیل چیئر پر عدالت لاتی رہی۔












جمعرات 4 جون 2026 