جاپان کی وزیراعظم سانائے تاکائیچی کی جانب سے اپنی روزانہ کی نیند سے متعلق کیے گئے انکشاف نے ملک بھر میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم نے بتایا ہے کہ عہدہ سنبھالنے کے بعد انہیں اکثر روزانہ صرف 0 سے 3 گھنٹے نیند نصیب ہوتی ہے، جبکہ حال ہی میں 5 گھنٹے کی نیند کو انہوں نے غیر معمولی طور پر زیادہ قرار دیا۔
جاپانی میڈیا کے مطابق سانائے تاکائیچی نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ سرکاری مصروفیات، اہم سرکاری دستاویزات کا جائزہ، ای میلز کے جوابات، اجلاسوں کی تیاری اور دیگر حکومتی ذمہ داریوں کی وجہ سے انہیں روزانہ بہت کم وقت آرام کے لیے ملتا ہے۔
ان کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مختلف سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی کم نیند لینے والا شخص اہم قومی فیصلے کس حد تک مؤثر انداز میں کر سکتا ہے، جبکہ کئی صارفین نے جاپان کے سخت ورک کلچر پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
طبی ماہرین نے بھی اس معاملے پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلسل نیند کی کمی انسانی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ناکافی نیند سے توجہ، یادداشت، فیصلہ سازی، ذہنی کارکردگی اور جسمانی صحت متاثر ہو سکتی ہے۔
صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بیشتر بالغ افراد کے لیے روزانہ 7 سے 9 گھنٹے کی معیاری نیند بہتر جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہے، جبکہ اس سے کم نیند طویل مدت میں مختلف طبی مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔
وزیراعظم سانائے تاکائیچی کے اس بیان کے بعد جاپان میں کام کے بڑھتے ہوئے دباؤ، طویل اوقاتِ کار، ورک لائف بیلنس اور اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز افراد کی صحت سے متعلق بحث نے ایک بار پھر زور پکڑ لیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید معاشروں میں بہتر کارکردگی کے لیے مناسب آرام اور متوازن طرز زندگی بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا سخت محنت اور ذمہ داری۔













جمعرات 23 جولائی 2026 

