’کالا ہرن‘ فلم تنازع: سومی علی بھی میدان میں آگئیں، پروڈیوسر امیت جانی کی حمایت کا اعلان

Calender Icon ہفتہ 6 جون 2026

بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان (Salman Khan) اور متنازع فلم ’کالا ہرن‘ کے گرد جاری تنازع نے ایک نیا موڑ اختیار کر لیا ہے۔ اس بار سلمان خان کی سابق گرل فرینڈ سومی علی نے فلم کے پروڈیوسر امیت جانی کی حمایت کرتے ہوئے بحث کو مزید گرم کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق فلم کے پروڈیوسر امیت جانی کا کہنا ہے کہ سلمان خان کی جانب سے قانونی نوٹس موصول ہونے کے بعد انہیں مسلسل دھمکی آمیز پیغامات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کے بقول اس مشکل صورتحال میں سومی علی نے کھل کر ان کا ساتھ دیا، جس کے بعد یہ معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

سومی علی نے امیت جانی کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ہر فلم ساز کو اپنی پسند کے موضوع پر فلم بنانے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دوسروں کو دھمکانے یا حقائق سے نظریں چرانے کی کوشش عموماً وہی لوگ کرتے ہیں جو خود کو قصوروار سمجھتے ہیں۔

دوسری جانب سلمان خان کے قانونی نمائندوں نے فلم سازوں کو باضابطہ قانونی نوٹس جاری کیا ہے۔ نوٹس میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ فلم ’کالا ہرن‘ 1998 کے مشہور کالا ہرن شکار کیس سے متاثر دکھائی دیتی ہے اور اس میں سلمان خان کے شخصی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

مزید پڑھیں؛ٹیلزسوئفٹ، اثاثوں کی مالیت 1 ارب 60 کروڑ ڈالر، دنیا کی امیر ترین گلوکارہ

سلمان خان کے وکیل کے مطابق مذکورہ مقدمہ تاحال راجستھان ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے، اس لیے اس موضوع پر فلم کی تیاری نہ صرف اداکار کی ساکھ کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ عدالتی کارروائی پر بھی اثر انداز ہونے کا خدشہ موجود ہے۔

ادھر امیت جانی نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 36 گھنٹوں کے دوران انہیں ایک ہزار سے زائد دھمکی آمیز پیغامات موصول ہوئے۔ ان کے مطابق دھراوی سے جوگیشوری تک مختلف علاقوں سے انہیں خوفزدہ کرنے کی کوشش کی گئی، جبکہ ایک پیغام مبینہ طور پر ڈی کمپنی کے نام سے بھی موصول ہوا، تاہم انہوں نے اس کی تصدیق نہ ہونے کا اعتراف کیا۔

واضح رہے کہ ’کالا ہرن‘ کی ہدایت کاری بھارت شری ناتے نے کی ہے جبکہ اسے امیت جانی نے پروڈیوس کیا ہے۔ یہ وہی ٹیم ہے جو اس سے قبل ’اودے پور فائلز‘ بنا چکی ہے، جو اودے پور میں درزی کنہیا لال کے قتل کے واقعے پر مبنی تھی۔

سلمان خان، فلم سازوں اور سومی علی کے درمیان جاری یہ تنازع اب سوشل میڈیا پر بھی خاصی توجہ حاصل کر رہا ہے، جہاں اس معاملے پر مختلف آرا اور تبصرے سامنے آ رہے ہیں۔